پاکستانی تجارتی گاڑیوں کے افغانستان سے گزرنے پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption افغانستان کے ایک صدرارتی ترجمان شاہ حسین مرتضوی کا کہنا ہے کہ گو کہ افغانستان کی مارکیٹوں میں سب سے زیادہ پاکستانی اشیا موجود ہیں تاہم اب افغان حکومت نے متبادل راستوں پر غور کرنا شروع کر دیا ہے

افغانستان کے صدارتی محل سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وسطی ایشیائی ریاستوں میں جانے والی پاکستانی مال گاڑیوں کو ملک سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی نے یہ اعلان پاکستان کی جانب سے افغانستان کی اشیاء خاص طور پر میوہ جات کو بھارت لے جانے کے لیے واہگہ بارڈر سے جانے کی اجازت نہ دینے کے ردِ عمل میں کیا ہے۔

بیان کے مطابق پاکستان کے فیصلے کے بعد افغانستان کو مجبورا پاکستانی گاڑیوں کو وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی نہ دینے کا اعلان کرنا پڑا۔

افغانستان کے صدارتی محل کے ایک ترجمان شاہ حسین مرتضوی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے چمن بارڈر کو اس وقت بند کردیا جب افغانستان میں میوہ جات کی ترسیل کا وقت تھا اور اس وجہ سے افغانستان کے تاجروں کو بہت زیادہ نقصان اُٹھانا پڑا۔

مرتضوی کے مطابق اس کے بدلے میں افغان صدر نے بھارت سے بات کی اور انھوں نے وہ ٹیکس کے بغیر ان کے میوہ جات کو وہاں لے جانے پر آمادگی ظاہر کی۔

Image caption افغان حکومت نے یہ احکامات پاکستان کی سرحد پر موجود افغان حکام تک پہنچا دیے ہیں

مرتضوی کے مطابق جب پاکستان نے افغانستان کی اشیا کو وہاں سے گزرنے نہیں دیا تو افغان حکومت نے بھی اس کی گاڑیوں کو وسطی ایشیائی ریاستوں تک جانے کی اجازت نہیں دی اور اُنہیں منع کردیا۔

صدارتی ترجمان کے مطابق یہ بات افغان صدر نے جمعرات کو پاکستان اور افغانستان کے لیے خصوصی ایلچی اوین جینکینس سے ملاقات میں بھی کہی۔

ترجمان کے مطابق افغان حکومت نے یہ احکامات پاکستان کی سرحد پر موجود افغان حکام تک پہنچا دیے ہیں۔

شاہ حسین مرتضوی کا کہنا ہے کہ گو کہ افغانستان کی مارکیٹوں میں سب سے زیادہ پاکستانی اشیا موجود ہیں تاہم اب افغان حکومت نے متبادل راستوں پر غور کرنا شروع کر دیا ہے اور ’اب افغانستان ایک لینڈ لاک کنٹری نہیں رہا۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں