کشمیر:احتجاجی تحریک تیسرے ماہ میں داخل، مزید ہلاکتیں

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ان واقعات کے بعد کشمیر کے بیشتر علاقوں میں بندشیں مزید سخت کر دی گئی ہیں اور کرفیو میں شدت کا اعلان کیا گیا ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں جاری احتجاجی تحریک جاری ہے اور سنیچر کے روز کئی اضلاع میں مظاہرین جو منتشر کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز نے چھرے اور آنسو گیس شیل فائر کئےگئے جس کے نتیجہ میں مزید دو نوجوان ہلاکت درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔

گزشتہ دو مہینوں سے جاری سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں اب تک پچہتر سے زائد نوجوان ہلاک اور دس ہزار دیگر زخمی ہوچکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق سنیچر کے روز جنوبی کشمیر کے شوپیاں ضلع میں سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر پیلیٹ گن سے فائرنگ کی جس میں ایک نوجوان ہلاک ہوگیا۔

دوسرا واقعہ بھی جنوبی کشمیر کے اننتناگ میں پیش آیا جہاں پر آنسو گیس کے ایک شیل لگنے سے ایک شخص ہلاک ہوا ہے، دونوں جگہوں پر دو درجن سے زیادہ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں اب تک تقریبا 80 لوگ ہلاک اور سکیورٹی فورسز کے بعض اہلکاروں سمیت کئی ہزار لوگ زخمی ہوچکے ہیں جس میں بیشتر نوجوان ہیں

سری نگر میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور کا کہنا ہے کہ ان واقعات کے بعد کشمیر کے بیشتر علاقوں میں بندشیں مزید سخت کر دی گئی ہیں اور کرفیو میں شدت کا اعلان کیا گیا ہے۔

ان تمام سختیوں اور بندشوں کے باوجود بھی کشمیر میں گذشتہ دو ماہ سے بھارت مخالف مظاہرے بند نہیں ہوئے ہیں اور حالات دن بدن کشیدہ ہوتے جارہے ہیں۔

گذشتہ آٹھ جولائی کو حزب المجاہدین کے ایک مشتبہ کمانڈر برہان وانی کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ مبینہ تصادم میں موت ہو گئی تھی جس کے بعدگذشتہ 64 دنوں سے وادی کشمیر میں کرفیو نافذ ہے اور سکیورٹی کا سخت پہرہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption وادی کشمیر میں گذشتہ 64 دنوں سے وادی کشمیر میں کرفیو نافذ ہے اور سکیورٹی کا سخت پہرہ ہے

سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں اب تک تقریبا 80 لوگ ہلاک اور سکیورٹی فورسز کے بعض اہلکاروں سمیت کئی ہزار لوگ زخمی ہوچکے ہیں جس میں بیشتر نوجوان ہیں۔

حالات پر قابو پانے کے لیے بھارت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ اب تک تین بار سرینگر کا دورہ کر چکے ہیں لیکن حالات بدستور بگڑتے جا رہے ہیں۔

وزیر داخلہ کی قیادت میں ایک کل جماعتی وفد بھی گذشتہ ہفتے کشمیر گیا تھا لیکن بعض ہند نواز سیاسی جماعتوں کے علاوہ ان کے وفد سے کشمیر کی سرکردہ شخصیات سمیت کئی انجمنوں نے ملنے سے انکار کر دیا تھا۔

اس وفد کے کچھ لیڈروں نے ذاتی طور پر علیحدگی پسند رہنماؤں سے ملنے کی کوشش کی تھی لیکن انہیں بھی اس میں ناکامی ہوئی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں