’تشدد اور دہشت گردی کا استعمال سب سے بڑا خطرہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption افغان صدر دو روزہ دورے پر بدھ کو دہلی پہنچے

انڈیا اور افغانستان نے کہا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کو سب سے بڑا خطرہ ان سے ہے جو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے دہشت گردی کی پشت پناہی کرتے ہیں۔

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی اور افغانستان کے صدر اشرف غنی کی بدھ کو دہلی میں ملاقات کے بعد جاری کیے جانے والے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جانی چاہیے کیونکہ دہشت گردی سے خطے میں امن و استحکام کو خطرہ لاحق ہے۔

12 نکات پر مشتمل اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے علاقے کے حالات پر بات چيت کی اور علاقے میں ’سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے دہشت گردی اور تشدد کے مسلسل استعمال‘ پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی کہ ’یہ مسئلہ علاقے میں امن و استحکام اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑا خطرہ ہے۔‘

انھوں نے ’بلا تفریق تمام طرح کی دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے‘ پر زور دیا اور پاکستان کا نام لیے بغیر کہا کہ ’تمام تشویش رکھنے والے بشمول انڈیا اور افغانستان کو نشانہ بنانے والے دہشت گردی کی سپانسر شپ، تعاون، محفوظ مقامات اور پناہ گاہیں فراہم کرنا بند کریں۔‘

اس سے قبل افغانستان کے صدر اشرف غنی دو دنوں کے دورے پر بدھ کے روز انڈیا کے دارالحکومت دہلی پہنچے جہاں انھوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا

انڈیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے ٹویٹ کے ذریعے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے افغان صدر اشرف غنی کا ان کے دوسرے سرکاری دورے پر استقبال کیا۔

وکاس سوروپ نے اس دورے کو ’ہندوستان اور افغانستان کے درمیان گہری ہوتی ہوئی دوستی‘ سے تعبیر کیا اور دونوں کی تصاویر بھی پوسٹ کیں۔

بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک کے درمیان ہر سطح پر مسلسل قریبی صلاح و مشورے پر خوشی کا اظہار کیا جس کے سبب دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹیجک شراکت اور مختلف جہتی تعاون کو فروغ ملا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے ’متحد، خود مختار، جمہوری، پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان‘ کے لیے اپنے تعاون کا اعادہ کیا اور مختلف قسم کے پروگرامز کے لیے ایک ارب ڈالر مختص کرنے کی بات کہی۔

دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی سے لڑنے اور سکیورٹی اور دفاعی تعاون میں اضافے کا اعادہ کیا جیسا کہ ان کے درمیان سٹریٹیجک تعاون کے معاہدے میں طے پایا تھا۔

Image caption افغان صدر کا دہلی میں وزیر اعظم مودی نے استقبال کیا

اعلامیے میں یہ بھی کہا گيا ہے کہ انڈیا کی وزیر خارجہ اور افغان کے وزیر خارجہ کی سربراہی میں جلد ہی سٹریٹیجک پارٹنرشپ کونسل کا اجلاس ہوگا جس میں چار جوائنٹ ورکنگ گروپ کی تجاویز کا جائزہ لیا جائے گا۔ یہ گروپس دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے سلسلے میں کام کر رہے ہیں۔

ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان ملزمان کی سپردگی کے معاہدے پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔

بعد میں اشرف غنی انڈیا کے صدر سے بھی ملاقات کریں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں