جنگوں کے باوجود بچ جانے والا نایاب ہرن

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption یہ ہرن سرخ ہرن کی ایک نایاب نسل ہے

40 سال سے لوگوں کو اس بات کا یقین تھا کہ افغانستان سے باختری ہرنوں کی نسل کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ ملک میں ایک عرصے سے جاری مسلح تنازعات کی وجہ سے اس خیال کو مزید تقویت ملتی تھی۔

لیکن پھر اچانک سنہ 2013 میں ماہرِ ماحولیات زلمی محب اور محققین کی ایک ٹیم کو یہ ہرن نظر آیا۔

محب کے لیے یہ ایک یادگار لمحہ تھا جس کے ذریعے یہ کہانی معلوم ہوتی ہے کہ کیسے تمام تر ناموافق حالات کے باوجود یہ جانور اور یہ ملک ابھی بھی موجود ہیں۔

محب کا کہنا تھا کہ ’ ہم نے اپنے آپ سے کہا زبردست، گذشتہ 45 سالوں میں یہ پہلا موقع ہوگا جب ہم اس ہرن کی موجودگی کی تصدیق کریں گے، قدرتی وسائل کے تحفظ کے ماہرین اس ہرن کو دوبارہ دیکھنے کی امید کھو بیٹھے تھے۔‘

خیال رہے کہ دریا کنارے پر موجود درختوں اور جھاڑیوں میں رہنے کا شوقین یہ ہرن بخارا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

وسطی ایشیا میں پایا جانے والا یہ جانور سرخ ہرن کی ایک نایاب قسم ہے۔

1970 کی دہائی میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ اس ہرن کی نسل ختم ہونے کے قریب ہے۔ اس وقت محققین نے خبردار کیا تھا کہ افغانستان میں صرف 120 ایسے ہرن رہ گئے ہیں۔

ملک میں اس کے بعد ہونے والی جنگوں سے یہ خدیشہ مزید تقویت پکڑ گیا تھا کہ باختری ہرن کی نسل ختم ہو گئی ہے۔

میسا چوسٹس یورنیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے طالبعلم محب کے بقول’ شروع میں ہم زیادہ پر امید نہیں تھے، لیکن ہم نے پھر بھی اس ہرن کی تلاش جاری رکھی۔آخر کار ہم اسے ڈھونڈنے میں کامیاب ہوگئے اور یہ بہت باعثِ مسرت تھا۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ جب انھیں ایک باختری ہرن نظر آیا تو وہ پر امید تھے کہ یقیناً اس نسل کے اور ہرن بھی ملک میں موجود ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جنگوں کی وجہ سے افغانستان میں جنگلی حیات بری طرح متاثر ہوئی ہیں

جب محب اور ان کی ٹیم نے اس ہرن کی تلاش شروع کی تھی تو وہ زیادہ پر امید نہیں تھے کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ ملک میں جاری جنگوں کے باعث جنگلی حیات یقیناً متاثر ہوئی ہوں گی۔

محب کے بقول ’ جنگوں سے ہمیشہ جنگلی جانور اور ماحول متاثر ہوتے ہیں، خوراک کے لیے شکار اور جنگلات کی کٹائی ایسے عوامل تھے جن سے باختری ہرن متاثر ہوئے تھے۔‘

ہتھیاروں تک رسائی کا مطلب تھا کہ کوئی بھی شخص ان ہرنوں کا شکار تھا جس کے باعث ان کی تعداد میں تیزی سے کمی آئی۔

یہ ہرن افغانستان اور تاجکستان کی سرحد کے قریب پائے جاتے ہیں اور ماہرین کا خیال ہے کہ جنگ کے دوران یہ ہرن نقل مکانی کرکے تاجکستان چلے گئے تھے شاہد اسی لیے ان کی نسل ختم ہونے سے بچ گئی ہے۔

آج افغانستان میں مختلف سرکاری اور غیر سرکاری تنظیمیں ملک کے مختلف علاقوں میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کر رہی ہیں۔

محب کے بقول باختری ہرن افغانستان کے آس پاس کے علاقوں قزاقستان، تاجکستان اور ازبکستان میں بھی پائے جاتے ہیں۔

محب کا کہنا ہے کہ ’ باختری ہرن کی موجودگی افغانستان کے لیے بہت ضروری ہے، یہ ملک کے قدرتی ورثے کا حصہ ہیں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں