جوابی کارروائی کا بڑھتا دباؤ اور امکانات

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے اُوڑی سیکٹر میں انڈین فوج کے بریگیڈ ہیڈ کواٹر پر اتوار کو فدائی حملے میں 17 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سے انڈیا میں پاکستان کو کڑا جواب دینے کے لیے دباؤ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے حملے کے چند گھنٹوں بعد ایک بیان میں کہا کہ وہ قوم کو یقین دلاتے ہیں کہ اس بزدلانہ حملے کے ذمہ داران سزا سے بچ نہیں سکیں گے۔

نریندر مودی نے اپنے بیان میں پاکستان کا نام نہیں لیا ہے لیکن ان کے اس شدید رد عمل سے ان عناصر کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے جو چاہتے ہیں کہ انڈین فوج پاکستانی فوج کے خلاف حرکت میں آئے۔

دہلی میں سیاست دان پاکستان کی فوج کو حملے کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں جبکہ پاکستان نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور اس ردعمل کو بلا سوچے سمجھے الزام تراشی قرار دیا ہے۔

اس حملے کی ذمہ داری ابھی تک کسی شدت یا علیحدگی پسند گروہ کی طرف سے قبول نہیں کی گئی۔

فوج کے وقار کو طاقت کے ذریعے بحال کرنے کی باتیں

انڈیا کی فوج اوڑی سیکٹر میں حملے اور اپنے جوانوں کی ہلاکت کا بدلہ لینے اور اپنا وقار بحال کرنے کے لیے بے تاب ہے جس سے جوہری طاقت کے حامل دو ہمسایہ ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہونا یقینی ہے۔

دہلی میں دفاعی منصوبہ سازوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ گو پاکستانی فوج کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں لیکن انڈین فوج پاکستان کو جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی نوبت آئے بغیر سبق سکھا سکتی ہے۔

انڈین سکیورٹی حکام کا خیال ہے کہ جوہری ہتھیاروں کی نوبت آنے سے قبل انڈین فوج کو اتنا موقع مل سکتا ہے کہ وہ سیاسی فائدے کے لیے پاکستانی فوج کے خلاف سرعت سے کارروائی مکمل کر لے اور پھر بین الاقوامی برداری مداخلت کر کے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا موقع نہ آنے دے۔

لیکن کارروائی کا یہ طریقہ فوری ردعمل سے مشروط ہے، 24 گھنٹے گزر جانے کے بعد ایسا کرنا اب بعید از قیاس لگتا ہے۔

دریں اثنا سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ فوج میں جارحانہ سوچ رکھنے والوں کو نریندر مودی اور نیشنل سکیورٹی کے مشیر اجیت ڈووال کی پاکستان کی طرف سخت پالیسی سے حوصلہ مل رہا ہے لیکن اس سوچ کے حامل افراد کو سرحد پر ممکنہ نتائج کا پوری طرح ادراک نہیں ہے۔

فوری حملہ کرنے کی سوچ رکھنے والے

انڈین فوج کے ایک ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل وجے کپور کا کہنا ہے کہ ’وقت آ گیا ہے کہ ایسے حملوں کا جواب دے کر پاکستان سے دفاعی لحاظ سے بلادستی چھین لیں اور انھیں یہ سمجھا دیں کہ انڈین فوج کتنی صلاحیت رکھتی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے طویل عرصے سے امن برقرار رکھ کر پاکستانی فوج کی بغل بچہ تنظیموں کو گاہے بگاہے حملے کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔‘

فوج کے سابق نائب چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل راج کدیانی کا کہنا ہے اوڑی سیکٹر پر حملے کی جوابی کارروائی تیزی سے مکمل کر لینی چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انھوں نے کہا کہ اس طرح کی صورت حال کہ انڈین فوج پر حملے ہوتے رہیں زیادہ دیر برداشت نہیں کی جا سکتی۔

فوج کے اعلی اہلکاروں میں اس بات پر اتفاق ہے کہ سوچ سمجھ کر مناسب وقت اور مناسب جگہ پر اچانک کارروائی کی جانی چاہیے اور اس کی بھرپور تشہیر کی جانی چاہیے تاکہ قوم کا اطمینان دلایا جا سکے۔ ان کی ترجیح ہوگی کہ جس طرح 18 انڈین فوجی جوانوں کی منی پور کے ضلعے چندل میں ہلاکت کے خلاف جون 2015 میں گوریلا فوج نے ناگا باغیوں کے کیمپوں کو برما کے اندر کارروائی کر کے تباہ کر دیا تھا اسی طرح پاکستان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔

اس وقت فوج نے فیڈرل سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی ملی بھگت سے گوریلا یا خصوصی دستوں میں شامل فوجیوں کو ذرائع ابلاغ میں انٹرویو دینے کی اجازت بھی دی تھی جن میں بعض اوقات دفاعی نوعیت کی حساس معلومات بھی افشا کی گئیں تاکہ فوج کے وقار کو بحال کیا جا سکے۔

لیکن اس وقت سے لاتعداد مرتبہ یہ واضح کیا جا چکا ہے کہ پاکستان کے خلاف اس طرح کی کارروائی کرنا ممکن نہیں ہے۔

فوجی ماہرین کا استدلال ہے کہ اوڑی سیکٹر کے رد عمل میں کارروائی بڑی سرعت سے کی جائی چاہیے کیونکہ امریکہ جیسے ملکوں کی طرف سے سفارتی دباؤ کسی جوابی کارروائی کو روکنے کے لیے پہلے ہی بڑھنا شروع ہو گیا ہے جس سے اس کا امکان کم ہو گیا ہے۔

لائن آف کنٹرول کے پار سے فائرنگ کوئی متبادل نہیں

لائن آف کنٹرول کے پار سے فائرنگ کرنا واضح راستہ ہے لیکن اس سے نومبر سنہ 2003 میں ہونے والا جنگ بندی کا معاہدہ ٹوٹ جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

دوسرا راستہ اوڑی سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کو عبور کر کے جہاں سے شدت پسند داخل ہوئے وہاں پاکستانی فوج کے اگلے مورچوں پر یا اس علاقے میں ان کے اڈے یا ہیڈ کواٹر پر محدود حملہ کیا جائے۔

لیکن ایسا بلاشبہ پہلے کیا جانا چاہیے تھا۔ اس کے لیے وقت کا انتخاب انتہائی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اب پاکستان کی فوج نے احتیاطی تدابیر کر لی ہوں گی اور بہت سے لوگ یہ کہیں گے اب اس طرح کی کارروائی کا وقت گزر گیا ہے۔

سفارتی سطح پر واویلا کرنے کا راستہ

لیکن بہت سے تجزیہ کار اور فوج افسران اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا خیال ہے کہ باوجود پاکستان کی طرف سے شدید ترین اشتعال انگیزی کے، بھارت جوہری ہتھیاروں کو استعمال کرنے کے لیے بے تاب پاکستانی فوجی حکام سے خائف ہے اور جوابی کارروائی کرنے کے قابل نہیں ہے اور اسی وجہ سے وہ پاکستان کو سبق سکھانے کے لیے غیر موثر سفارتی اور سیاسی راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہے۔

سابق میجر جنرل شوہرو تھپیال کا کہنا ہے کہ گذشتہ کئی دہائیوں اور کارگل جنگ کے دوران بھی انڈیا نے پاکستان کو قابو میں رکھنے کے لیے ہمیشہ امریکہ اور مغربی ملکوں پر انحصار کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ انڈیا خود کچھ نہیں کر سکتا۔ موثر اور بامعنی جوابی کارروائی ان کے خیال میں کوئی آپشن یا راستہ نہیں ہے۔

یہ حملہ ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ہونے والا ہے اور پاکستان وہاں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھارتی سکیورٹی فورسز کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اٹھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

حال ہی میں پاکستان نے اپنے 22 اعلی اہل کارروں اور منتخب نمائندوں کو دنیا کے مختلف ملکوں میں بھیجا ہے تاکہ وہ کشمیر کی صورت حال کو اجاگر کر سکیں۔

دوسری طرف انڈیا پاکستان کے صوبے بلوچستان میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھا رہا ہے جس سے دونوں ملکوں میں ایک مرتبہ پھر سفارتی تعطل پیدا ہو گیا ہے۔

داخلی سکیورٹی کا مسئلہ

دریں اثنا لائن آف کنٹرول کے قریب اوڑی چھاونی میں سکیورٹی میں غفلت کو اس حملے کا باعث قرار دیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے حملہ آور چھاونی میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے۔

اس بارے میں تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور بلاشبہ جو اس غفلت کے ذمہ دار ٹھہرائے جائیں گے ان کے خلاف تادیبی کارروائی بھی کی جائے گی لیکن چند اعلی فوجی اہلکاروں کا کہنا ہے فوج اندرونی سکیورٹی آپریشنوں میں اس حد تک الجھی ہوئی ہے کہ اس کے لیے ہر وقت چوکس رہنا مشکل ہو گیا ہے۔

سکیورٹی میں غفلت ہی گذشتہ سال منی پور میں فوجی قافلے پر حملے کی بڑی وجہ بنی تھی اور یہ ہی اوڑی میں ہوا ہے۔ لگتا ہے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں