’انڈیا اپنی ہی شعلہ بیانی میں پھنس گیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے اوڑی سیکٹر میں فوجی بریگیڈ ہیڈ کوارٹر پر حملے میں 18 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد کیا پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ کی سی صورتحال ہے؟

انڈیا نے پاکستان میں موجود شدت پسند گروپ کو اس حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے جبکہ پاکستان اس کی تردید کرتا ہے۔

اس حملے کے اگلے روز شہ سرخیوں نے دونوں ممالک کے درمیان صورتحال کی صحیح عکاسی کی۔ شہ سرخیوں میں کہا گیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ’کارروائی کا عزم کیا‘، جوابی کارروائی پر سوچ بچار، اور فوج نے حکومت سے کہا ہے کہ سرحد پار کارروائی کے بارے میں سوچیں۔ ایک شہ سرخی تھی ’جوابی کارروائی کی جائے گی اور جلد‘۔

نریندر مودی نے کہا ہے کہ اس حملہ کے ذمہ داران کو سزا دی جائے گی۔ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینیئر رہنما رام مدھو کا کہنا تھا کہ انڈیا کو ’خود پر قابو رکھنے‘ کے دن گئے۔

سابق فوجی افسران نے بھی کہا کہ انڈیا کو جوابی کارروائی کرنی چاہیے۔ دفاعی تجزیہ کار راہل بیدی کا کہنا ہے کہ فوج جوابی کارروائی کرنے کے لیے بے تاب ہے۔

لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا انڈیا کے پاس پاکستان کے اندر اہداف کو نشانہ بنانے یا پاکستان میں محدود جنگ لڑنے کی صلاحیت اور انٹیلیجنس ہے۔

زیادہ تر ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ انڈیا کی حکومتوں نے ایسی صلاحیت بڑھانے کے لیے کام نہیں کیا۔ میڈیا میں یہ بات کہی جا رہی ہے کہ فضائیہ کو پاکستان کے اندر اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ آسان نہیں ہو گا کیونکہ پاکستان کے پاس عمدہ دفاعی نظام موجود ہے۔

ماہرین کو اس بارے میں بھی شک و شبہات ہیں کہ انڈیا غیرروایتی مزاحمت کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

دفاعی تجزیہ کار اجے شکلا کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کے کا مسئلہ یہ ہے کہ اس نے ’پاکستان کے خلاف بیان بازی کو تو بہت بڑھا دیا ہے لیکن فوج کی صلاحیتوں اور منصوبہ بندی کے نظام کو بہتر نہیں کیا۔‘

’حکومت اب اپنے ہی اودھم میں پھنس گئی ہے۔ اپنے ہی شعلہ بیانی میں پھنس جانے کا خطرہ یہ ہوتا ہے کہ جارحانہ جواب دینا مجبوری بن جاتا ہے اور آپ کے پاس مزید خراب ہوتی صورتحال کو قابو کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔‘

تو کیا انڈیا کی پاکستان کے خلاف روائتی ’جوابی کارروائی سے باز رہنے‘ کی حکمت عملی ہی اس کا واحد جواب ہوگا؟

دہلی کے تھنک ٹینک سینٹر فار پالیسی ریسرچ کے پرتاب بھانو مہتا کا کہنا ہے کہ انڈیا کی پاکستان کے خلاف ’جوابی کارروائی سے باز رہنے‘ کی حکمت عملی کافی کامیاب رہی ہے۔ ’پاکستان تنہا ہو جائے گا ماسوائے چین کے اور ہمیں پاکستان کے خلاف مالی پابندیوں کا مطالبہ کرنا چاہیے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ اتوار کو اوڑی میں ہونے والے حملے سے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں انڈیا پر کشمیر کے حوالے سےح موجود دباؤ کافی کم ہو جائے گا۔ ’ہم نے عوامی دباؤ میں آ کر خود کو ایک کونے میں بند کر لیا ہے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو ہم یہ طویل جنگ جیت رہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

تاہم دفاعی تجزیہ کار کرسٹین فیئر کا کہنا ہے ’اگر جوابی کارروائی سے باز رہنے کی حکمت عملی کا مقصد پاکستان کو انڈیا میں کارروائیاں کرنے سے باز رکھنا ہے تو یہ حکمت عملی بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ کیا انڈیا کی اس حکمت عملی کے باعث عالمی برادری کا جھکاؤ انڈیا کی جانب ہو گیا ہے؟ نہیں۔‘

دیگر ماہرین کا خیال ہے کہ جوابی کارروائی سے باز رہنے کی حکمت عملی کے پیچھے انڈیا کی غیر معقول منطق یہ ہے کہ ایک ارب سے زائد افراد اور سب سے بڑی فوج کا ملک حملوں میں فوجیوں کی ہلاکت برداشت کر سکتا ہے اور اس پر کوئی سیاسی بحران بھی پیدا نہیں ہو گا۔ ایک تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ ’انڈیا معاشی طور پر ترقی کر رہا ہے اور پاکستان نہیں۔ تو ہم جنگ کا خطرہ مول لیے بغیر چند سو لوگوں کی قربانی دے سکتے ہیں۔ یہ ہے جوابی کارروائی سے باز رہنے کی حکمت عملی کے پیچھے سوچ اور اس بارے میں کوئی بات نہیں کرتا۔‘

تو پھر انڈیا کے پاس آپشن کیا بچی؟

مصنف برہما چلنی کا کہنا ہے ’جوابی کارروائی سے باز رہنے کی حکمت عملی غیر اخلاقی انتخاب ہے جس سے دشمن کی مسلسل کارروائیوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ اور یہ بھی غلط موقف ہے کہ انڈیا کے پاس اپنی ہی سر زمین پر پاکستان کی غیر روایتی جنگ لڑنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں۔‘

چند ماہرین کا خیال ہے کہ انڈیا کو جوابی کارروائی پر غور نہ کرتے ہوئے غیر روائتی آپشنز کو وسیع کرنا ہو گا۔

مالی پابندیاں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ انڈیا کو پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات کو کم کر دینا چاہیے، چین، سعودی عرب اور امریکہ پر دباؤ ڈالنا چاہیے، مالی پابندیوں کے لیے لابی کرنی چاہیے اور امریکہ پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ کھلے الفاظ میں پاکستان کو دہشت گردی کی معاونت کرنے والا ملک قرار دے۔

زیادہ تر ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیا اپنے پیغام پر قائم رہے کہ ’انڈیا سرحد پار دہشت گردی کا نشانہ ہے‘۔ کرسٹینا فیئر کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ میں بلوچستان کا ایشو اٹھانے سے انڈیا کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ ’انڈیا کی تشویش اور توجہ پاکستان کی دہشت گردی ہونی چاہیے نہ کہ بلوچستان۔ انڈیا کو اس پیغام کو ہی لے کر چلنا چاہیے اور عالمی برادری کو قائل کرنے کی کوشش کرے۔‘

جنوبی ایشیا کے ماہر سٹیفن کوہن کا کہنا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کا اختلاف دنیا میں دشوار ترین اختلافات میں سے ایک ہے جو غیر معینہ مدت تک جاری رہ سکتا ہے۔ ’یہ وہ اختلاف ہے جو پاکستان جیت نہیں سکتا اور انڈیا ہار نہیں سکتا۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں