ایران کی سی پیک منصوبے میں شمولیت کی خواہش

تصویر کے کاپی رائٹ PM house
Image caption پاکستان کی سکیورٹی ایران کی سکیورٹی ہے: صدر روحانی

ایران کے صدر حسن روحانی نے پاکستانی وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے ملاقات میں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

٭’اقتصادی راہداری کے خلاف سازشوں سے آگاہ ہیں‘

٭ چابہار اور گوادر خطے کی سیاست

٭ ’وفاق صوبائی حکومت کو دھوکہ دے رہا ہے‘

وزیراعظم نواز شریف اور صدر حسن روحانی کے درمیان ملاقات نیویارک میں ہوئی جہاں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس جاری ہے۔

وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سکیورٹی ایران کی سکیورٹی ہے۔

حسن روحانی نے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے حوالے سے پاکستانی وزیراعظم کے عزم کی تعریف کی اور اس کا حصہ بننے کی خواہش کا اظہار کیا۔

دونوں رہنماؤں نے توانائی، معیشت اور دیگر شعبوں میں تعلقات پر بات چیت بھی کی۔

صدر روحانی نے پیش کش کی کہ ایران پاکستان کی بجلی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے اس کی سرحد پر پاور پلانٹ بھی لگا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ انھوں نے دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc urdu
Image caption دونوں رہنماؤں نے توانائی، معیشت اور دیگر شعبوں میں تعلقات پر بات چیت بھی کی

دونوں رہنماؤں نے گوادر اور چابہار کی بندرگاہوں کے حوالے سے بھی بات کی، جو خطے میں تجارت کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف نے صدر حسن روحانی کی جانب سے دورہ ایران کی دعوت قبول کی اور کہا کہ وہ جلد ہی ایران کا دورہ کریں گے۔

خیال رہے کہ رواں برس مئی میں پاکستان کے تین ہمسائیہ ممالک انڈیا، افغانستان اور ایران کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ اور چابہار کی بندرگاہ کی تعمیر کا معاہدہ ہوا تھا۔

اس معاہدے کے تحت انڈیا کو ایران اور افغانستان کی منڈیوں تک رسائی حاصل ہو گی جبکہ افغانستان اپنی مصنوعات بیرونی دنیا میں بھجوانے کے لیے پاکستان کے بجائے ایرانی بندرگاہ کو متبادل کے طور پر استعمال کر سکے گا۔

سہ فریقی معاہدے سے انڈیا کی افغانستان کے راستے وسطی ایشیا اور روس کی منڈیوں تک رسائی کی دیرینہ خواہش بھی پوری ہو جائے۔

اسی بارے میں