چین: چھتری اور کالا چشمہ پہننے پر صحافی معطل

تصویر کے کاپی رائٹ media
Image caption اس تصویر سے متعلق آن لائن پر ہونے والے تبصرے، خاص طور پر چینی سماجی ویب سائٹ وایئبو نیٹورک، مختلف طرح کے تھے

چین میں ایک ٹی وی صحافی کی دھوپ سے بچنے کے لیے چھتری لیے اور چشمہ پہنے ہوئے تصویر لی گئی جس کے بعد کمپنی نے اس صحافی کو معطل کر دیا۔

اس صحافی کا نام ظاہر نہیں کیا گیا جو میرانتی طوفان کے بعد ہونے والے نقصان پر رپورٹنگ کے لیے متاثرہ علاقے زیامیئمن شہرگئی ہوئی تھیں اور انٹریو لیتے ہوئے ان کی اس حالت میں تصویر لی گئی تھی۔

اس مناسبت سے ان کی تصویر ذرا عجیب سی تھی کہ طوفان کے بعد صفائی کرنے والے جس رضاکار کا وہ انٹرویو لے رہی تھیں وہ ان کے مقابلے میں کافی بوسیدہ حالت میں تھا۔

ان کی یہ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس میں بہت سے لوگوں نے ان پر غیر پیشہ وارانہ انداز اپنانے کا الزام لگایا۔

اس حوالے سے ٹی وی چینل نے اپنے ایک بیان میں کہا: ’ہماری ایک صحافی نے ہمارے اصولوں کی پاسداری نہیں کی اور انٹرویو کے دوران ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی۔ اس سے صحافی کی شبیہہ خراب ہوتی ہے اور عوام میں منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔‘

اس تصویر سے متعلق سوشل میڈیا پر تبصرے ملے جلے تھے۔

اس پر ایک صارف ایکلریکس نے لکھا کہ کہ ٹی وی سٹیشن کو اس بات کو واضح کر دینا چاہیے کہ اس کے صحافی چشمہ پہن سکتے ہیں یا نہیں۔ ’یا پھر سٹیشن عوام کے دباؤ اور غصے کے سبب صحافی کو معطل کرنے پر مجبور ہوا؟‘

ایک دوسرے شخص پین نے کہا: ’اگر آپ کو یہ معلوم ہوجائے کہ صحافی ہونا کتنا مشکل ہے تو پھر آپ کبھی بھی ایسی اشیا (چشمہ اور چھتری) پر توجہ ہی نہیں دیں گے۔‘

لیکن ایک دوسرے شخص نے وائیبو پر لکھا کہ پریشانی یہ تھی کہ صحافی میں شائستگی کی کمی دیکھی اور جس شخص کا وہ انٹرویو کر رہی تھیں اس کی توقیر میں ناکام رہیں۔

اس مذکورہ تصویر کو پہلے پہل دوبارہ پوسٹ کرنے والی ینپنگ ژانگ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس معاملے میں رد عمل ان کی توقع سے کہیں زیادہ سخت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انھیں اس بات کا اندازہ نہیں کہ یہ تصویر کس نے کھینچی تھی لیکن ان کی نظر میں سزا بہت زیادہ سخت ہے۔ ’میرے خیال سے چینل کی جانب سے انھیں زبانی وارننگ دی جانی ہی کافی ہوتی۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں