جارحانہ سفارت کاری کا فائدہ کس کو؟

اوڑی حملے کے بعد ایک بار پھر انڈیا کی کوشش ہے کہ دنیا بھر میں پاکستان اور دہشت گردی کے خلاف حمایت حاصل کی جائے۔

دوسری طرف پاکستان اس کوشش میں ہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں جاری تشدد پر ہی دنیا کی توجہ مرکوز رہے۔

دونوں ملک اپنے مقصد میں کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں؟

عائشہ صدیقہ، دفاعی امور کی ماہر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کی سفارتی کوششیں ابھی تک کچھ خاص کامیاب نہیں رہیں۔ دنیا کے ملک اقتصادی ترقی کی بات کرتے ہیں۔ چاہے بلوچستان ہو یا کشمیر، دنیا کے ممالک میں ان مسائل سے کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔

اوڑی میں شدت پسند حملے پر چین کا بیان تو آیا لیکن خود چین پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

تمام ملک تھوڑا بہت انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں، بھارت پاکستان کشیدگی کی خبر دنیا کی توجہ زیادہ اپنی طرف متوجہ کرتی ہے اور سب کو احساس ہوتا ہے کہ یہ خطرناک علاقہ ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نواز شریف کی تقریر کو فوج کی حمایت حاصل ہے۔ اگر وزیر اعظم نواز شریف کا خارجہ پالیسی پر کوئی کنٹرول ہوتا تو وہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں کچھ اور تقریر کر رہے ہوتے۔

میں اس بات سے متفق ہوں کہ حزب المجاہدین سے منسلک شدت پسند برہان وانی کا نام لیے بغیر بھی نواز شریف جنرل اسمبلی میں تقریر کر سکتے تھے لیکن لگتا ہے کہ یہ تقریر کسی نے پاکستان آرمی کے میڈیا ونگ آئی ایس پی آر میں لکھی گئی ہے۔

تین دن پہلے پاکستان کے تین سابق سفیروں نے ایک مضمون لکھا تھا کہ اگر پاکستان کشمیر کا ذکر کرنا چاہتا ہے تو اسے شدت پسند تنظیموں سے خود کو الگ کرنا چاہیے۔ اگر پاکستان کا اپنا تعلق جیش محمد یا لشکر طیبہ سے جڑا ہوا نہ ہو تو کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مسئلہ اٹھا کر پاکستان دنیا کو اپنی بات بہتر طریقے سے سمجھا سکتا ہے۔

پاكستان کی جانب سے اوڑی حملے کی مذمت نہیں کی گئی حالانکہ انڈیا میں اس سے پہلے ہونے والے بہت سے حملوں کی پاکستان کی جانب سے مذمت کی گئی تھی۔

خارجہ پالیسی فوج کے ہاتھ میں ہے۔ فوج کو لگا کہ بلوچستان پر نریندر مودی اور اجیت ڈوول کے بیان کے بعد اب کوئی ضرورت نہیں ہے کہ اوڑی حملے کی مذمت کی جائے لیکن ایسا ہونا چاہیے تھا۔

اگر پاکستان مذمت نہیں کرتا تو اس پر تنقید ہونی چاہیے تھی۔

اشرف جہانگیر قاضی، سابق سفیر اور بین الاقوامی تعلقات عامہ کے ماہر

پاکستان کی سفارتی کوششوں کا اثر ہوا ہے۔ دنیا کے ممالک نے اسے نظر انداز کرنے کی کوشش کی، خاص طور پر بڑے ممالک نے۔ ان ممالک نے پردے کے پیچھے سے انڈیا سے کہا ہے کہ کشمیر میں صورت حال پریشان کن ہے اور یہ نہیں ہونا چاہیے۔ مغربی ممالک کے میڈیا میں بھی ایسی کہانیاں آ رہی ہیں۔

غیر ملکی صحافیوں پر بھی اس صورت حال کا اثر پڑا ہے۔ بہت سارے انڈین بھی ایسا کہہ رہے ہیں۔ پاکستان کی مہم کامیاب ہو یا نہ ہو، آپ وہاں کی صورت حال دیکھیے۔ یہ ہو کیا رہا ہے؟ جو لوگ مطالبہ کر رہے ہیں، آپ ان کے مطالبے پر رد عمل ہونا چاہیے۔

پاکستان کی کوششوں کا دنیا پر اثر ہوا ہے۔ اتنا نہیں جتنا ہونا چاہیے تھا لیکن یہ سفارت کاری کی بنیاد پر نہیں دیکھنا چاہیے، یہ دیکھنا چاہیے کہ وہاں جو حالات ہیں ان میں بہتری آ رہی ہے یا نہیں۔

سدھارتھ وردراجن، سینیئر بھارتی صحافی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایسا نہیں ہے کہ دنیا کو اصل بات کا علم نہیں ہے۔ دنیا کو اچھی طرح معلوم ہے کہ پاکستان میں کیسی کیسی طاقتیں پنپ رہی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود دنیا کے بڑے ممالک کے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔

اس کی وجہ ہے کہ ان ممالک کو پاکستان اس علاقے میں ایک سفارتی شراکت کار کی طرح لگتا ہے۔ میں خاص طور پر چین، روس اور امریکہ کی بات کر رہا ہوں۔

ان میں سے کوئی بھی ملک انڈیا کی بات کو ماننے کو تیار نہیں ہو گا کہ پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دیا جائے اور پاکستان کے ساتھ تعلقات توڑ دیے جائیں۔

او آئی سی اور جی سی سی ممالک کشمیر پر ہونے والے شدت پسند حملے پر تنقید کرنے کو تیار ہیں، یہ اچھی بات ہے لیکن کیا یہ ملک پاکستان سے اپنے تعلقات خراب کرنے کو تیار ہوں گے؟ یہ شاید اپنے دل کو خوش کرنے والی بات ہو گی، ایسا ہوگا نہیں۔

اب چونکہ چین نے حملے پر تنقید کی ہے تو ایک بنیاد بنتی ہے کہ بھارت چین سے بات کرے اور کہے کہ دیکھیے آپ نے اس حملے پر تنقید کی لیکن اس حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے جو لوگ ہیں آپ کو ان کو لگام کیوں نہیں ڈالنا چاہتے۔

جب تک پاکستان کی اہمیت افغانستان کے حوالے سے کم نہیں ہوتی تب تک یہ امید بےسود ہے کہ اہم ملک اس سے اپنے تعلقات کو خراب کریں گے۔ جان کیری نے نواز شریف سے یہ تو كہا ہے کہ اوڑی حملے سے پہلے کشمیر میں تشدد ہوا ہے اور یہ قابل مذمت ہے۔ یہ اپنے آپ میں ایک کامیابی ہے لیکن امریکہ کی حدود ہیں۔

پریم شنکر جھا، سینیئر بھارتی صحافی

حکومت جو جارحانہ سفارت کاری کی بات کر رہی ہے، اس سے پاکستان کے ساتھ ہمارے کشیدگی بڑھ جائے گی اور بڑھ رہی بھی ہے۔

اس سے کوئی طویل مدتی فائدہ نہیں ہے، ہم روز بروز ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں، نزدیک نہیں آ رہے۔

کشمیر میں اس کا الٹا اثر ہوگا۔ ہمیں کشمیریوں سے کہنا ہے کہ آپ بغاوت چھوڑیے اور ہم سے بات کیجیے اور آئین کے دائرے میں رہ کر ہم جو دے سکتے ہیں، دیں گے۔

ابھی ہمیں بات کرنے کو کوئی مل نہیں رہا۔ ایسی صورت میں اگر ہم پاکستان کو لے کر جارحانہ ہو جائیں تو کشمیریوں کی پاکستان کے ساتھ ہمدردی میں اضافہ ہو گا اور ہمیں اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

جارحانہ سفارت کاری سے فائدے بھی ہو رہے ہیں اور نقصان بھی۔ کل جب نواز شریف تقریر کر رہے تھے، کیمرے نے ایک بار اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کو دکھایا تو بس سات آٹھ وفود وہاں موجود تھے۔

لوگ اپنی سرگرمیوں سے اشارہ دے رہے ہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ ہمیں بین الاقوامی حمایت مل گئی ہے۔ لیکن کیا کرنے کے لیے؟ حملہ کرنے کے لیے؟ حملہ کریں گے تو ایٹمی جنگ کا خوف ہے۔ اس سے صرف کشیدگی بڑھے گی، دشمنی بڑھے گی۔

متعلقہ عنوانات