انڈیا: مبینہ پولیس تشدد سے دلت کی ہلاکت، چار اہلکار گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ CGKhabar
Image caption اہل خانہ کا الزام ہے کہ ان کے سامنے ہی ستیش کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا گیا

انڈیا کی ریاست چھتیس گڑھ کے ضلع جانجگير چانپا میں پولیس حراست میں مبینہ طور پر پیٹ پیٹ کر دلت نوجوان کے قتل کے ملزمان تھانہ انچارج سمیت چار پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا ہے۔

ضلع کے ایڈیشنل پولیس سپرنٹنڈنٹ پنکج چندرا کے مطابق ’ملزمان سے پوچھ گچھ کر کے جرم کی تفتیش کی گئی۔ ثبوت ملنے پر شام کو نامزد چاروں ملزمان کو باضابطہ طور پر گرفتار کرکے ضلع سیشن کورٹ جانجگير میں عدالتی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا جہاں سے انھیں بلاس پور میں واقع سینٹرل جیل بھیجا گیا۔‘

اس دوران ریاست میں حزب اختلاف کی جماعت کانگریس نے پیر کو اس معاملے میں وزیر داخلہ کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ریاست بھر میں جیل بھرو تحریک کا اعلان کیا ہے۔

الزام ہے کہ جانجگيرچانپا کے نريرا گاؤں کے ایک علاقے میں گذشتہ کئی دنوں سے بجلی نہیں تھی۔ اس معاملے کی شکایت کرنے 17 ستمبر کو جب گاؤں کے ستیش نورگے بجلی کے محکمے پہنچے تو وہاں حکام سے ان کی بحث ہو گئی.۔

تصویر کے کاپی رائٹ CGKhabar
Image caption بڑھتے ہوئے احتجاج کو دیکھتے ہوئے پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے

اس کے بعد ململا تھانے کے پولیس اہلکاروں نے بغیر کسی رپورٹ کے ستیش کو تھانے لے کر آ گئے۔

اہل خانہ کا الزام ہے کہ ان کے سامنے ہی ستیش کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا گیا۔

ان کی ہلاکت کی خبر کے بعد سے ہی ریاست کے کئی حصوں میں دھرنوں کا سلسلہ شروع ہو گیا جس کے بعد پولیس نے ململا تھانہ کے انچارج جتیندر سنگھ راجپوت، دو کانسٹیبلوں سمیت چار اہلکاروب کو برطرف کر دیا تھا۔

بڑھتے ہوئے احتجاج کو دیکھتے ہوئے قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے اور اتوار کو ان برطرف پولیس اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں