’انڈیا کی فوج تو بڑی مگر ذہنی صلاحیت کم‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انڈین ایئرفورس کی ایک اندرونی رپورٹ کے مطابق صرف 60 فیصد طیارے اڑنے کے قابل ہیں

ایک بڑی فوج کا حامل ہونے کے باوجود انڈیا دفاعی اعتبار سے اتنا مضبوط نہیں ہے جتنا اسے سمجھا جاتا ہے۔

بین الاقوامی جریدے اکانومسٹ میں چھنے والے کالم کے مطابق انڈیا کے بین الاقوامی عزائم اس کی معیشت میں بہتری کے ساتھ وسیع ہوتے جا رہے ہیں لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ انڈیا اپنی دفاعی طاقت میں خاطر خواہ اضافہ کرنے میں ناکام رہا ہے۔

انڈین افواج عددی اعتبار سے مضبوط دکھائی دیتی ہیں اور چین کے بعد انڈین فوج دنیا کی دوسری بڑی فوج ہے۔

سنہ 2010 میں انڈیا اسلحہ خریدنے والا سب سے بڑا ملک تھا۔ انڈیا نے روس، اسرائیل، فرانس اور امریکہ سے جدید سامانِ حرب خریدا ہے۔

اس کے علاوہ انڈیا کی مقامی دفاعی صنعت بھی کافی فعال ہے اور ملک میں ایئر کرافٹ کیریئر بھی تیار کیا جا رہا ہے۔

لیکن اس سب کے باوجود انڈیا کی دفاعی قوت میں نقائص ہیں۔ اس کا بیشتر اسلحہ یا تو بہت پرانا ہے یا اسے مناسب دیکھ بھال میسر نہیں ہے۔

انڈیا سے تعلق رکھنے والے دفاعی امور کے ماہر اجے شکلا نے بین الاقوامی جریدے اکانومسٹ سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہمارا فضائی دفاع کا نظام نہایت بری حالت میں ہے۔ زیادہ تر اسلحہ 70 کی دہائی سے زیرِ استعمال ہے اور فضائی دفاع کا نیا نظام نصب کرنے میں شاید دس سال لگ جائیں۔‘

اعدادو شمار کے حوالے سے تو انڈین فضائیہ 2000 لڑاکا طیاروں کے ساتھ دنیا کی چوتھی بڑی ایئر فورس ہے۔ لیکن سنہ 2014 میں دفاعی جریدے آئی ایچ ایس جینز کے ہاتھ لگنے والی انڈین ایئرفورس کی ایک اندرونی رپورٹ کے مطابق صرف 60 فیصد طیارے اڑنے کے قابل ہیں۔

اس سال کے اوائل میں ایک حکومتی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ انڈین بحریہ کے زیرِ استعمال 45 مگ طیارے جن پر انڈیا کو بہت فخر ہے ان طیاروں میں سے صرف 16 سے 38 فیصد طیارے اڑنے کے قابل ہیں۔

انڈیا ان طیاروں کو ملک میں زیر تعمیر ایئر کرافٹ کیریئر سے اڑانے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اس ایئرکرافٹ کیریئر پر 15 سال قبل کام شروع ہوا تھا اور اسے سنہ 2010 میں مکمل ہونا تھا لیکن اب ایسا لگ رہا ہے کہ 2023 سے قبل اس کا مکمل ہونا ممکن نہیں ہے۔

انڈین فوج میں اور بھی بہت سے چیزیں التوا کا شکار ہیں مثال کے طور پر انڈیا سنہ 1982 سے فوجی جوانوں کے زیرِ استعمال بندوق کو اپ گریڈ کرنے کا سوچ رہا ہے لیکن تاحال ایسا نہیں ہوسکا۔

گذشتہ 16 برس سے انڈیا اپنی فضائیہ کو جدید طیاروں سے لیس کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن ضرورت سے زیادہ جدید سسٹمز کا مطالبہ اور مناسب قیمت کی ادائیگی میں لیت و لعل کے سبب غیر ملکی دفاعی کمپنیاں انڈیا کے مطالبات پورے کرنے سے قاصر ہیں۔

بین الاقوامی جریدے اکانومسٹ کے مطابق انڈین فوج میں بدعنوانی بھی ایک مسئلہ رہا ہے اور ماہرین یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اتنی بڑی تعداد میں فوج کی تعیناتی کے باوجود جنگجو بار بار انڈین فوج کے اڈوں میں گھسنے میں کیسے کامیاب ہوجاتے ہیں۔

حال ہی میں ترقی کے معاملات پر انڈین جرنیلوں کے مابین قانونی جنگیں بھی دیکھنے کو ملی ہیں اور اس سال اگست میں آسٹریلیا کے ایک جریدے نے انڈیا کی ایک آبدوز سے متعلق خفیہ دستاویزات بھی شائع کی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انڈیا سنہ 1982 فوجی جوانوں کے زیرِ استعمال بندوق کو اپ گریڈ کرنے کا سوچ رہا ہے لیکن تاحال ایسا نہیں ہوسکا

اجے شکلا کے مطابق انڈین افواج کے ساتھ انتظامی مسئلہ بھی ہے اور بّری، بحری اور فضائی فوج میں تعاون کا فقدان ہے۔ ’ایک دوسرے سے بات چیت نہیں کی جاتی اور وزارتِ دفاع میں موجود سویلین فوجی حکام سے بات نہیں کرتے۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ حیران کن طور پر وزارتِ دفاع میں کوئی فوجی تعینات نہیں ہے اور ملک کی دیگر وزارتوں کی طرح دفاع کی وزارت بھی سویلین افسران چلاتے ہیں جن کی تعیناتی سیاسی بنیادوں پر ہوتی ہے جو بیلسٹک سے زیادہ بیلٹنگ پر زیادہ توجہ مرکوز کیے ہوتے ہیں۔

سو انڈین افواج کا اگرچہ حجم تو بڑھ رہا ہے لیکن ان کی ذہنی صلاحیت کم ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں