ننگرہار میں ڈرون حملہ، کم ازکم 13 ہلاکتیں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ڈرون حملے میں مکان کو اُس وقت نشانہ بنایا گیا جب حاجی سے ملنے کے لیے لوگ ان کے مکان پرجمع تھے

افغانستان کےصوبے ننگرہار میں حکام کا کہنا ہے کہ امریکی ڈرون حملے میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

حکام کے مطابق بدھ کی صبح ہونے والے اس ڈرون حملے میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سے وابستہ شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

٭ افغانستان میں ڈرون حملہ، ’دولت اسلامیہ کے 17 جنگجو ہلاک‘

ضلع ننگرہار کی پولیس کے ترجمان حضرت حسین مشرقی وال نے بی بی سی افغان سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح چار بجے اُس شخص کے مکان پر ہوا جو چند روز قبل حج کا فریضہ ادا کر کے وآپس آیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ ڈرون حملے میں مکان کو اُس وقت نشانہ بنایا گیا جب حاجی سے ملنے کے لیے لوگ ان کے مکان پرجمع تھے۔

صوبائی پولیس کے ترجمان مشرقی وال کے مطابق اس حملے میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے ایک کمانڈر اور ایک قاضی بھی ہلاک ہوئے ہیں، تاہم ہلاک ہونے والوں میں عام لوگ بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ امریکی ڈرون حملے میں شدت پسند نہیں بلکہ عام لوگوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اہلِ محلہ کا کہنا ہے کہ اس حملے میں سعودی عرب سے آئے ہوئے حاجی بھی زخمی ہوئے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں