http://www.bbc.com/urdu/

Sunday, 11 March, 2007, 08:39 GMT 13:39 PST

ایران کے خلاف پابندیوں پر اختلاف

روس اور چین نے کہا ہے کہ ایران کے لیے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی مجوزہ پابندیوں کے بارے میں ان کے کچھ تحفظات ہیں۔

یہ پابندیاں ایران کے یورینیم کی افزودگی معطل نہ کرنے پر سزا کے طور پر ایران پر عائد کی جاسکتی ہیں۔

سلامتی کونسل کی کوشش ہے کہ گزشتہ دسمبر میں ایران پر عائد کی جانے والی پابندیوں میں مزید توسیع کی جائے۔ دسمبر میں خدشات ظاہر کیے گئے تھے کہ ایران خفیہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کررہا ہے جس کے بعد اس پر پابندیاں عائد کردی گئی تھیں۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

اقوام متحدہ کی تازہ تجاویز میں اسلحہ پر پابندی، تجارتی اور سفری پابندیاں اور ان افراد اور اداروں کی فہرست میں توسیع شامل ہے جن کے اثاثے منجمد کیے جائیں گے۔

چین کے تحفظات
 چین کو ایران پر عائد کی جانے والی تجارتی اور اقتصادی پابندیوں پر اعتراض ہے کیونکہ ہمارا خیال ہے کہ ہمیں ایران کے عوام کو سزا نہیں دینی چاہیئے۔
 
چینی سفیر

چین کو تشویش ہے کہ اقتصادی پابندیوں سے ایران کا جوہری پروگرام تو متاثر ہو نہ ہو، عام لوگوں کی زندگی ضرور متاثر ہوگی۔

سلامتی کونسل کے مذاکرات کے بعد چین کے سفیر وینگ گونگایا کا کہنا تھا کہ ’چین کو ایران پر عائد کی جانے والی تجارتی اور اقتصادی پابندیوں پر اعتراض ہے کیونکہ ہمارا خیال ہے کہ ہمیں ایران کے عوام کو سزا نہیں دینی چاہیے‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چین کو ایران کے پاسداران انقلاب کے اس فہرست میں شامل کیے جانے پر اعتراض ہے جن کے اثاثے منجمد کیے جائیں گے۔ ’ہمارے خیال میں یہ ایران کا ایک ادارہ ہے اور اداروں کو سزا نہیں ملنی چاہیے‘ ۔

دو لاکھ نفوس پر مشتمل پاسداران انقلاب ایران کے روحانی رہنما آیت اللہ علی خامناای کی سرپرستی میں کام کرتی ہے۔

تاہم اقوام متحدہ میں امریکہ کے نمائندے الیجندرو وولف کا خیال ہے کہ نئی تجاویز سے ایران کے عوام براہ راست متاثر نہیں ہوں گے۔ ’ان پابندیوں کا مقصد ایرانی حکومت کو سلامتی کونسل کی خلاف ورزی کرنے پر سزا دینا ہے‘۔

نیویارک میں بی بی سی کی تجزیہ کار لارا ٹریولیان کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کے درمیان اختلاف رائے کے باوجود سفارتکار پراعتماد ہیں کہ اس ہفتے کے اختتام تک قرار داد منظور ہوجائے گی۔

ایران کے صدر محمود احمدی نژاد کہہ چکے ہیں کہ وہ جوہری پروگرام کو رول بیک نہیں کریں گے۔

ایران نے ہمیشہ مغرب کے ان دعووں کی تردید کی ہے کہ وہ خفیہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ اس کی جوہری تحقیق کا مقصد شہری ضروریات کے لیے توانائی پیدا کرنا ہے۔

سلامتی کونسل نے دسمبر میں ایران پر پابندیاں عائد کی تھیں اور یورینیم کی افزودگی روکنے کے لیے اسے 60 روز کی ڈیڈ لائن بھی دی تھی۔ تاہم اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے ادارے کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ایران اپنے جوہری پروگرام میں توسیع کررہا ہے۔