|
جنگی جرائم کے الزامات سے انکار
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بوسنیائی سرب رہنما رادوان کرادچ نے اقوام متحدہ کی جنگی جرائم کی ٹریبونل میں اپنے خلاف لگائے جانے والے الزامات انکار کیا ہے۔
ٹریبونل کے جج نے کرادچ کی جانب سے قصوروار نہ ہونے کی عذرداری ٹریبونل میں دی جو کہ عدالت کا طریقہ کار ہے۔ ٹریبونل کی اگلی پیشی سترہ ستمبر کو ہو گی۔ جج نے کرادچ کی طرف سے عذرداری دی کیونکہ کرادچ نے اپنے خلاف لگے الزامات سننے سے انکار کردیا تھا۔ جج نے کہا ’ایک الزام کے مطابق آپ پر نسل کشی کا الزام ہے۔ آپ کیا عذرداری دیں گے قصوروار یا نہیں۔‘ کرادچ نے کہا ’میں کوئی عذرداری نہیں کروں گا اور اس عدالت کے بارے میں میرا مؤقف صاف ہے۔‘ جج نے کہا ’میں پھر آپ کی طرف سے عذرداری بیان کرتا ہوں۔ کیا باقی دس الزامات میں بھی آپ کا مؤقف یہی رہے گا۔‘ کرادچ نے کہا ’بالکل۔‘ جج نے جب کرادچ کے بارے میں عذرداری پیش کی تو کرادچ نے کہا ’جو آپ نے کہا کیا میں اس پر اعتبار کر سکتا ہوں۔‘ جج نے پوچھا ’کون سی بات۔‘ جس پر کرادچ نے کہا ’میں بےقصور ہوں۔‘ جج نے کہا ’مسٹر کرادچ ہم وقت آنے پر دیکھیں گے۔‘ کرادچ کو جنگی جرائم کے گیارہ الزامات کا سامنا ہے جن کا تعلق بوسنیائی جنگ سے ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں کو قتل کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ سابق بوسنیائی سرب رہنما رودوان کرادچ نے اقوامِ متحدہ کے جنگی جرائم ٹریبیونل سے اپیل کی ہے کہ ان پر چلنے والے مقدمے کی تیاریوں کے انچارج جج کو تبدیل کر دیا جائے۔ اور ان جج صاحب کو اب تبدیل کردیا گیا ہے۔ بی بی سی کے مائیک وولڈرچ کے مطابق کہ یہ ناممکن تھا کہ کرادچ قصوروار کی عذرداری دیں گے۔ |
اسی بارے میں
کرادچ کی جج بدلنے کی درخواست20 August, 2008 | آس پاس
’مجھے انصاف ملنا ناممکن ہے‘01 August, 2008 | آس پاس
کرادچ پر فرد جرم عائد31 July, 2008 | آس پاس
مسلم قتل عام: سات کو طویل قید30 July, 2008 | آس پاس
کرادچ کے مقدمے کی تیاریاں25 July, 2008 | آس پاس
’جنگی مجرم‘ کرادچ گرفتار21 July, 2008 | آس پاس
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||