نصرت بھٹو کیلیے مادرِ جمہوریت کا خطاب

نصرت بھٹو تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption انہوں نے جو غیر معمولی مصائب اور آلام جھیلے ان کے طبقے میں اس کی مثال نہیں ملتی۔

پاکستان کی حکومت نے سابق خاتون اول نصرت بھٹو کی آمریت کے خلاف جدوجہد کے اعتراف کرتے ہوئے انھیں ملک کا اعلیٰ ترین شہری ایوارڈ، نشان امتیاز اور مادر جمہوریت کا منفرد خطاب بھی دیا گیا۔

سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بیگم نصرت بھٹو کو نشان امتیاز کا یہ اعزاز بیان کے الفاظ میں’آمریت کے خلاف ان کی انتھک جدوجہد کے اعتراف میں دیا گیا جو کئی دہائیوں پر محیط ہے‘۔

سرکاری بیان کے مطابق جمہوریت کے لیے ان کی جدوجہد اور اس مقصد کے لیے انہوں نے جو غیر معمولی مصائب اور آلام جھیلنے پڑے اس کے پیش نظر انھیں مادر جمہوریت کا منفرد خطاب بھی دیا گیا۔

ایک الگ سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے بیگم نصرت بھٹو کی وفات پر آج سے دس روز کے سوگ کا اعلان کیا ہے جس دوران قومی پرچم سرنگو رہے گا۔

سرکاری بیان کے مطابق بیرونی ممالک میں پاکستان کے سفارتی مشنز میں بھی دس روز تک سوگ منایا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بیگم نصرت بھٹو کی وفات کے باعث آج سے شروع ہونے والے پاکستان کے ایوان بالا یا سینٹ کا اجلاس بھی 26 اکتوبر تک ملتوی کردیا گیا ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں قائم غیر ملکی سفارتخانوں اور بین الاقانونی تنظیموں کے تعزیتی پیغامات کے لیے ایوان صدر میں منگل اور بدھ کو کتاب رکھی جائے گی۔

اسی بارے میں