تیونس: انتخابی نتائج کے خلاف مظاہرے

تیونس میں انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد ملک کے وسطی شہر سیدی بوذید میں پرتشدد مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔

اسی شہر سے معزول صدر بن علی کے اقتدار کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے تھے جس کے بعد وہ ملک سے فرار ہو کر سعودی عرب منتقل ہو گئے تھے۔

مظاہرین نے انتخاب میں حصہ لینے والی جماعتوں میں سے ایک کے متعدد امیدواروں کی انتخابی کامیابیوں کو منسوخ کرنے پر الیکشن کمیشن کے خلاف مظاہرہ کیا۔

اس جماعت پر الزام ہے کہ اس نے انتخابی مہم کے دوران مالی اخراجات کی مد میں بے ضابطگی کی ہے۔

مظاہرین نے تیونس کی اعتدال پسند اسلامی جماعت النھضۃ کے مقامی مرکزی دفتر پر دھاوا بول دیا۔

پولیس نے مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا ہے۔

اس سے پہلے تیونس کے الیکشن کمیشن نے انتخاب میں اعتدال پسند اسلامی جماعت النھضۃ کو برتری حاصل ہونے کا اعلان کیا تھا۔

الیکشن کمیشن کے مطابق اسلامی جماعت نے آئین ساز اسمبلی کی دو سو سترہ نشستوں میں سے نوے نشستوں پر فتح حاصل کی ہے۔

النھضۃ کی مخالف جماعت بائیں بازو کی سیکولر پی ڈی پی نے شکست تسلیم کر لی ہے۔ملک کے انتخابی کمیشن کے سیکرٹری جنرل نے بتایا تیونس میں اکتالیس لاکھ رجسٹرڈ ووٹر تھے جن میں سے نوّے فیصد نے اپنا حق استعمال کیا۔