جنوبی کوریا: روزانہ چالیس خود کشیاں

جنوبی کوریا میں روزانہ چالیس افراد خود کشی کر رہے ہیں اور وہاں کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس مسئلے سے نمٹنے کی اشد ضرورت ہے۔

جنوبی کوریا میں بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق خودکشی کی اتنی زیادہ شرح کی وجوہات غیر واضح ہیں اور اس مسئلے کو حل کرنا بھی آسان نہیں۔

جنوبی کوریا اس وقت دنیا کی بارہویں بڑی معیشت ہے جہاں زیرِ زمین انٹرنیٹ کے استعمال کے ساتھ ساتھ دورِ جدید کی ہر سہولت موجود ہے لیکن یہاں کے لوگ جنوبی اور شمالی کوریا کے درمیان جنگ کے بعد برسوں تک مشکلات برداشت کر کے بہت کم خوش ہیں۔

بچوں کی نفسیات کی ماہر کانگ ای ہانگ کا کہنا ہے کہ گذشتہ چالیس برسوں میں والدین کا رویہ تبدیل ہوا ہے اور لوگ مسلسل دباؤ اور معمول کی زندگی گذار رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’والدین نوعمری سے ہی بچوں میں پیسوں اور کامیابیوں کی اہمیت کا احساس جگانا شروع کر دیتے ہیں اس کا نیتجہ یہ ہوتا ہے کہ بچے یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ جب تک آپ اچھے سکول میں اچھے نتائج نہیں دیتے، کسی اچھے تعلیمی ادرے میں نہیں جاتے یا اچھی ملازمت نہیں کرتے تب تک آپ کامیاب نہیں کہلاتے۔‘