’بند کمرے کے اجلاس میں شرکت نہیں‘

پاکستان کی قومی اسمبلی میں حزب مخالف کے رہنما چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ نیٹو حملے کے معاملے پر اگر حکومت نے پارلیمان کا بند کمرے میں اجلاس بلایا تو مسلم لیگ نون شرکت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت چاہتی ہے کہ تمام حقائق قوم کے سامنے پیش ہونے چاہیے۔

یہ بات انہوں نے پارلیمانی رپورٹرز کی جانب سے دیے گئے استقبالیہ کے موقع پر مختلف سوالات کے جواب میں کہی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب تک پارلیمان کی پہلے سے منظور کردہ قراردادوں پر عمل نہیں ہوتا اس وقت تک وہ سمجہتے ہیں کہ کسی نئی قرارداد کی ضرورت نہیں۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ حکومت نے پارلیمان کے کردار کو مسخ کیا ہے کیونکہ اکثر فیصلے ایوان صدر اور کور کمیٹی میں کیے جاتے ہیں اور ٹھپہ لگوانے کے لیے بعد میں پارلیمان میں لائے جاتے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق چوہدری نثار علی خان حکومت کے خلاف کافی جارحانہ موڈ میں لگ رہے تھے۔

انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ متنازع میمو کے معاملے پر وزیراعظم خود کہہ چکے ہیں کہ معاملہ عدالت میں ہے اس لیے اُسے اچھالنا نہیں چاہیے۔

ان کے بقول جب وزیراعظم خود تسلیم کرچکے کہ فیصلہ سپریم کورٹ نے کرنا ہے تو پھر پارلیمان کو تحقیقات کے لیے یہ معاملہ کیوں بھیجا گیا۔