متنازع میمو، درخواستوں کی سماعت 19دسمبر سے

سپریم کورٹ نے امریکی افواج کی اعلیٰ کمان کو لکھے گئے متنازع خط سے متعلق دائر کی جانے والی درخواستوں کی باقاعدہ سماعت انیس دسمبر سے کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر میاں نواز شریف کی طرف سے دائر کی جانے والی اس درخواست میں وفاق سمیت صدر آصف علی زرداری، بری فوج کے سربراہ، ڈی جی آئی ایس آئی، امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حیسن حقانی اور اعجاز منصور کو فریق بنایا گیا تھا۔

عدالت نے گزشتہ جمعرات کو درخواستوں کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے اپنے حکم نامے میں صدر آصف علی زرداری سمیت اس درخواست میں بنائے جانے والے فریقین کو پندرہ روز میں جواب داخل کروانے اورایک تحقیقاتی کمیشن بنانے کا حکم دیا تھا جو تین ہفتے میں اس میمو سے متعلق شواہد اکٹھے کرے گا۔

متنازعہ خط سے متعلق دائر کی جانے والی درخواستوں کی ابتدائی سماعت کے دوران عدالت کا کہنا تھا کہ اس خط کا متن ملکی سالمیت کے منافی ہے۔

اس پر پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما بابر اعوان نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ میں متنازع میمو کی سماعت حکومت کے خلاف سازش ہے اور میاں نواز شریف ملک کے منتخب صدر آصف علی زرداری پر غداری کا مقدمہ بنوانا چاہتے ہیں۔