قزاقستان میں فسادات کے بعد کرفیو نافذ

قازقستان کے مغربی قصبے ژنگ آؤ زین میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں دس افراد کی ہلاکت کے بعد ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ قزاقستان میں ہڑتالوں اور مظاہروں پر پابندی عائد ہے جس میں رات کا کرفیو بھی شامل ہے۔

فسادات اس وقت شروع ہوئے جب پولیس نے ٹاؤن سکوائر کو خالی کرانے کی کوشش کی۔

اس ٹاؤن سکوائر پر آئل ٹینکر ورکزر اپنی تنخواہوں میں اضافے کے حق میں پچھلے چھ ماہ سے قابض ہیں۔

ان فسادات کو قزاقستان کی تاریخ کے بدترین فسادات قرار دیا جا رہا ہے۔

.