صدر مبارک بند پنجرے میں عدالت کے سامنے

تین عشروں تک اقتدار پر فائز رہنے والے سابق صدر حسنی مبارک کو ایک بار پھر پنجرے میں بند کر کے عدالت میں پیش کیا گیا۔

تراسی سالہ حسنی مبارک، ان کے دو بیٹوں، سابق وزیر داخلہ اور پانچ پولیس اہلکاروں پر احتجاج کرنے والے افراد کو ہلاک کرنے کے الزامات ہیں۔

مصر میں احتجاج کے دوران ساڑھے آٹھ سو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

سابق صدر پر الزام ہے کہ انہوں مظاہرین کو ہلاک کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ حسنی مبارک ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔