وکی لیکس:میننگ کے کورٹ مارشل کی سفارش

امریکی فوج کے ٹربیونل نے وکی لیکس کو خفیہ دستاویزات فراہم کرنے کے ملزم فوجی بریڈلی میننگ کا کورٹ مارشل کرنے کی سفارش کی ہے۔

چوبیس سالہ پرائیوٹ بریڈلی میننگ نے دو ہزار سات میں امریکی فوج میں شمولیت اختیار کی تھی اور انہیں مئی دو ہزار دس میں حراست میں لیا گیا تھا۔

خفیہ معلومات کے تجزیہ کار کے طور پر امریکی فوج میں کام کرنے والے میننگ نے مبینہ طور پر وکی لیکس کو امریکی حکومت کی ہزاروں سفارتی اور فوجی دستاویزات فراہم کی تھیں جن کی اشاعت سے دنیا بھر میں سنسنی پھیل گئی تھی۔

میننگ پر دستاویزات افشاء کرنے کے علاوہ ’دشمن کی مدد‘ کا الزام بھی لگایا گیا ہے اور اگر ان پر الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو انہیں عمرقید ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں