عراق، ’نائب صدر حملوں میں ملوث ہیں‘

عراق میں تحقیقاتی کمیٹی نے تصدیق کی ہے کہ عراق میں سکیورٹی حکام اور شیعہ زائرین پر معتدد حملوں میں سُنی نائب صدر طارق الھاشمی کا ہاتھ تھا۔

وزیر اعظم نوری الملکی نے دپچھلے سال دسمبر میں طارق الھاشمی کو گرفتار کرنے کے احکامات دیے تھے۔ ان احکامات کے بعد شیعہ اور سُنی سیاسی دھڑوں میں کشیدگی ہو گئی تھی۔

نو ججز پر مشتمل اس تحقیقاتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ نائب صدر کے کنٹرول میں مسلح گروہوں نے نائب صدر کے حکم پر کئی کارروائیاں کیں۔

کمیٹی کے ترجمان نے ڈیڑھ سو ایسے مبینہ حملے درج کیے ہیں جن میں سے کئی حملے نائب صدر کے خلاف وارنٹ جاری ہونے کے بعد ہوئے ہیں۔

نائب صدر طارق الھاشمی نے کردوں کے علاقے میں پناہ لے رکھی ہے۔ وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔