پاک امریکہ تعلقات، سفارشات پارلیمان میں پیش

پارلیمان کی قومی سلامتی کے بارے میں کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر رضا ربانی نے کمیٹی کی سفارشات پارلیمان کے خصوصی اجلاس میں پیش کر دی ہیں۔

سینیٹر رضا ربانی نے سفارشات پیش کرنے سے پہلے کہا کہ آج سے پہلے پاکستان کی خارجہ پالیسی، خارجہ پالیسی کے خدوخال بنانا، مرتب کرنا پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ تک ہی محدود رہی تھی۔ خاص طور پر اس بات کو یقینی بنایا جاتا تھا کہ پاکستانی پارلیمان کا جائزہ خارجہ پالیسی سے باہر رہے۔

پاکستان کی تاریخ یہ رہی ہے کہ پاکستان میں جمہوری حکومتیں چاہے اس وقت وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن، ان کو خارجہ پالیسی کے اوپر برطرف کیا جاتا رہا، یہاں تک سول ملڑی بیوروکریسی کے کہنے پر وزیر خارجہ کو مقرر کیا جاتا رہا ہے۔

لیکن آج پہلی بار ہے کہ یہ بات پاکستان کی پارلیمان کو سونپی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ قدم جمہوری عمل کو جہاں مضبوط کرتا ہے وہاں اس کے ساتھ ساتھ پارلیمان کی بالادستی کو یقینی بناتا ہے۔