ایڈ ہاک ججوں کی تعیناتی کی مخالفت

پاکستان کے وکلا کی نمائندہ تنظیموں نے سپریم کورٹ میں ایڈ ہاک ججوں کی تعیناتی کی مخالفت کرتے ہوئے اسے عدلیہ کی آزادی کے منافی قرار دیا ہے۔

اس بات کا اعلان پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین اختر حسین نے وکلا کے ایک اجلاس کے بعد کیا۔

اختر حسین نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ایڈ ہاک ججوں کی تعیناتی کی منظوری صدرِ پاکستان نے دینی ہوتی ہے اور وزیرِاعظم کے مشورے پر ایسا کیا جاتا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق ایڈ ہاک ججوں کی تعیناتی سے ایک ڈیڈ لاک پیدا ہو سکتا ہے۔

وائس چیرمین نے کہا کہ وزیرِاعظم اگر اپیل دائر کرتے ہیں تو اس کے لیے سپریم کورٹ کا آٹھ رکنی بنچ سماعت کر سکتا ہے اور اس کے لیے ایڈ ہاک جج مقرر کرنے کی ضرورت نہیں۔