ایڈ ہاک ججوں کی تعیناتی کی مخالفت

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 5 مئ 2012 ,‭ 09:40 GMT 14:40 PST

پاکستان کے وکلا کی نمائندہ تنظیموں نے سپریم کورٹ میں ایڈ ہاک ججوں کی تعیناتی کی مخالفت کرتے ہوئے اسے عدلیہ کی آزادی کے منافی قرار دیا ہے۔

اس بات کا اعلان پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین اختر حسین نے وکلا کے ایک اجلاس کے بعد کیا۔

اختر حسین نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ایڈ ہاک ججوں کی تعیناتی کی منظوری صدرِ پاکستان نے دینی ہوتی ہے اور وزیرِاعظم کے مشورے پر ایسا کیا جاتا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق ایڈ ہاک ججوں کی تعیناتی سے ایک ڈیڈ لاک پیدا ہو سکتا ہے۔

وائس چیرمین نے کہا کہ وزیرِاعظم اگر اپیل دائر کرتے ہیں تو اس کے لیے سپریم کورٹ کا آٹھ رکنی بنچ سماعت کر سکتا ہے اور اس کے لیے ایڈ ہاک جج مقرر کرنے کی ضرورت نہیں۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔