پولیو ایک ’گلوبل ہیلتھ ایمرجنسی‘

عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو برس کے دوران یورپ، افریقہ اور ایشیا میں پولیو کے تیزی سے پھیلاؤ کے بعد اس نے اس بیماری کو ’گلوبل ہیلتھ ایمرجنسی‘ قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ادارے کے مطابق اس وقت نہ صرف دنیا کے تین ممالک پاکستان، افغانستان اور نائجیریا میں باقاعدگی سے پولیو کے نئے مریض سامنے آ رہے ہیں بلکہ ایسے ممالک میں بھی پولیو کی موجودگی کا پتہ چلا ہے جنہیں اس بیماری سے پاک قرار دیا گیا تھا۔

ڈبلیو ایچ او کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ اگر پولیو کے خاتمے کی عالمی کوششیں ناکام رہیں تو یہ ایک بڑی عالمی بیماری کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق کچھ ممالک میں داخلی حالات اور ویکسینیشن پر عدم اعتماد کی وجہ سے بچے پولیو کی دوائی پینے سے محروم رہتے ہیں۔