’چیف جسٹس کو معاملے کا پہلے سے علم تھا‘

کاروباری شخصیت ملک ریاض کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو ارسلان افتخار کی جانب سے مالی فوائد حاصل کرنے کے معاملے کا پہلے سے علم تھا۔

ملک ریاض نے اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وہ غربت سے امارت کی طرف آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی بیٹی کے علاج کے لیے راولپنڈی میں اپنے گھر کے برتن بیچے ہیں۔

ملک ریاض کا کہنا تھا کہ وہ جیل جا نے سے نہیں ڈرتے لیکن اگر انہیں جیل میں ڈالا جائے گا تو وہ اس سے ڈریں گے نہیں۔ ’اگر عدالت چاہے تو ان پر توہینِ عدالت کا الزام عائد کر دے۔‘

ملک ریاض نے قرآن ہاتھ میں لے کر کہا کہ وہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے تین سوال کرنا چاہتے ہیں۔

ملک ریاض نے کہا کہ ’چیف جسٹس یہ بتائیں کہ انہوں نے رات کے اندھیروں میں اُن سے کتنی ملاقاتیں کی ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس آف پاکستان یہ بتائیں گے ان کے کاروباری ساتھی کے گھر پر ان کی ملاقاتوں میں کیا ان کے بیٹے ارسلان افتخار موجود نہیں تھے؟ چیف جسٹس کو یہ بات کب سے معلوم تھی؟ اور انہوں نے اس وقت ازحود نوٹس کیوں نہیں لیا؟‘

ملک ریاض کا کہنا تھا کہ انہوں نے ارسلان افتخار کو رشوت نہیں دی بلکہ انہیں بلیک میل کیا جا رہا ہے۔