بم پھٹنے سے چھ امریکی فوجی ہلاک

افغانستان کے مختلف علاقوں میں مزاحمت کاروں کے حملوں اور سڑک کنارے نصب بموں کے پھٹنے سے چھ امریکی فوجیوں سمیت بیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ہلاکتوں کے یہ تمام واقعات اتوار کو پیش آئے ہیں۔

افغانستان میں تعینات اتحادی افواج میں شامل امریکی فوجی مشرقی افغانستان میں سڑک کنارے نصب بم کا نشانہ بنے۔

نیٹو نے ابتدائی طور پر جاری کردہ بیان میں ہلاکتوں کی تصدیق تو کی لیکن مرنے والوں کی قومیتوں کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔ تاہم اب امریکی محکمۂ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد امریکی تھے۔

اتوار کو ہونے والے دیگر دو دھماکوں میں صوبہ قندھار میں چودہ افراد مارے گئے۔

قندھار کی پولیس کے سربراہ جنرل عبدالرازق نے بتایا کہ دونوں بم پاکستانی سرحد سے ملحقہ ضلع ارغستان میں سڑک کے کنارے ہی نصب تھے اور مرنے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے بم کا نشانہ ایک کار بنی جبکہ دوسرا بم اس وقت پھٹا جب ایک ٹریکٹر پر سوار افراد پہلے دھماکے میں زخمی ہونے والوں کی مدد کے لیے جائے حادثہ پر پہنچے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق افغان جنگ کے دوران گزشتہ برس سب سے زیادہ شہری ہلاکتوں کے واقعات پیش آئے اور ان واقعات میں تین ہزار سے زائد افراد مارے گئے۔

رواں برس شہری ہلاکتوں کے واقعات میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے تاہم اب بھی افغان شہری آئے روز بم حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔