جرمنی: ارکانِ پارلیمان ختنہ کے حق میں

جرمنی میں اراکینِ پارلیمان ختنے سے متعلق ایک قانون کی منظوری دینے والے ہیں۔ اِس قانون کو پارلیمان میں ہر جماعت کی حمایت حاصل ہے۔

اِس سے پہلے جرمنی کی ایک عدالت نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ بچوں کی ختنہ سنگین جسمانی نقصان کے برابر ہوتی ہے۔

آج جرمنی کی پارلیمان میں جو قرارداد پیش کی جا رہی ہے اُس میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ لڑکوں کی ختنہ کی اجازت سے متعلق قانون بنائے۔

اِس سے پہلے یورپ کی یہودی اور مسلمان تنظیمیں اِس ایک معاملے پر متحد ہوگئی تھیں اور انہوں نے مشترکہ طور پر جرمنی کے قانون سازوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بچوں کی ختنہ کے حق کا تحفظ کریں۔

پچھلے ماہ کولون کی ایک عدالت نے حکم دیا تھا کہ صرف مذہبی بنیادوں پر نوزائیدہ بچوں کی ختنہ سنگین جسمانی نقصان کے برابر ہوتی ہے۔ اس فیصلے کے بعد جرمن میڈیکل ایسوسی ایشن نے قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے تمام ڈاکٹروں سے کہا تھا کہ وہ بچوں کی ختنہ نہیں کریں سوائے اس کے کہ جب یہ عمل طبی طور پر ضروری ہو۔

جرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل نے کہا تھا کہ عدالت کے اِس فیصلے سے دنیا بھر میں جرمنی کا مذاق اڑے گا۔

جرمنی میں ہر سال ہزاروں مسلمان اور یہودی بچوں کی ختنہ کروائی جاتی ہیں۔

.