ایچ آئی وی وائرس، سرطان کی ادویات سے علاج

امریکہ میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایڈز کی وجہ بننے والے ایچ آئی وی وائرس کے علاج کی جانب ممکنہ طور پر پہلا قدم لے لیا گیا ہے۔

ایچ آئی وی وائرس کئی سال تک جسم میں رہتا ہے تاہم حرکت میں نہیں ہوتا جس کی وجہ سے اس کی شناخت کرنا مشکل ہو جاتی ہے۔

نیچر نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ محققین سرطان کے خلاف استعمال ہونے والی ایک دوا کے ذریعے اس غیر علامتی وائرس کو ختم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

علاج کے اس لائحہِ عمل میں انہوں نے سرطان کی ادویات سے وائرس کو پوشیدہ نہیں رہنے دیا جس کے بعد انہوں نے روایتی اینٹی وائرل دواؤں سے اس کو ختم کر دیا۔

تاہم محققین کی ٹیم کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں اس مرض میں مبتلا تین کروڑ مریضوں کے لیے موثر دوا بنانے میں ابھی کئی سال لگیں گے۔