اسانژ کی گرفتاری کے لیے برطانوی ’دھمکی‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 16 اگست 2012 ,‭ 22:47 GMT 03:47 PST

جولین اسانژ نے جون میں ایکواڈور کے سفارتخانے میں سیاسی پناہ طلب کی تھی

ایکواڈور کے وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ برطانیہ نے ’دھمکی‘ دی ہے کہ برطانوی حکام ان کےملک میں پناہ کے طالب وکی لیکس کے بانی جولین اسانژ کو گرفتار کرنے کے لیے ایکواڈور کے سفارتخانے میں داخل ہو سکتے ہیں۔

ریکارڈو پٹینو کا کہنا ہے کہ جولین اسانژ کی سیاسی پناہ کی درخواست پر فیصلہ جمعرات کو عام کر دیا جائے گا۔

جولین اسانژ نے سویڈن کے حکام کے حوالے کیے جانے سے بچنے کے لیے رواں برس جون میں لندن میں ایکواڈور کے سفارتخانے میں پناہ لی تھی۔

اسانژ کو سویڈن میں مجرمانہ جنسی حملے کے الزامات کا سامنا ہے جس سے وہ انکار کرتے ہیں۔

برطانوی دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اسانژ کی ملک بدری برطانیہ کی قانونی ذمہ داری ہے۔

بدھ کی شب کوئیٹو میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایکواڈور کے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ’آج ہمیں برطانیہ کی جانب سے تحریری تنبیہ موصول ہوئی ہے کہ اگر ہم نے جولین اسانژ کو ان کے حوالے نہ کیا تو وہ ہمارے سفارتخانے میں داخل ہو سکتے ہیں‘۔

ریکارڈو پٹینو کا کہنا تھا کہ ’ایکواڈور برطانوی سرکاری بات چیت دی گئی اس واضح دھمکی کی شدید مذمت کرتا ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی دھمکی دینا کسی جمہوری، مہذب اور قانون پسند ملک کو زیب نہیں دیتا۔

وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر برطانوی بات چیت میں دی گئی دھمکی پر عملدرآمد کیا گیا تو ’ایکواڈور اسے غیردوستانہ، ناقابلِ قبول اور دشمنی پر مبنی عمل سمجھے گا اور اسے ہماری سالمیت پر حملہ تصور کیا جائے گا اور ہم جواب دینے کے لیے مجبور ہوں گے‘۔

"ایکواڈور برطانوی سرکاری بات چیت دی گئی اس واضح دھمکی کی شدید مذمت کرتا ہے۔ ایسی دھمکی دینا کسی جمہوری، مہذب اور قانون پسند ملک کو زیب نہیں دیتا۔اگر برطانوی بات چیت میں دی گئی دھمکی پر عملدرآمد کیا گیا تو ایکواڈور اسے غیردوستانہ، ناقابلِ قبول اور دشمنی پر مبنی عمل سمجھے گا اور اسے ہماری سالمیت پر حملہ تصور کیا جائے گا اور ہم جواب دینے کے لیے مجبور ہوں گے۔ ہم برطانیہ کی کوئی نوآبادی نہیں ہیں۔"

ریکارڈو پٹینو، وزیرخارجہ ایکواڈور

انہوں نے کہا کہ ’ہم برطانیہ کی کوئی نوآبادی نہیں ہیں‘۔

ادھر برطانوی دفترِ خارجہ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ برطانیہ جولین اسانژ کو ملک بدر کرنے کی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اس سارے عرصے کے دوران ہم نے ایکواڈور کے حکام کی توجہ ہمارے قوانین کی متعلقہ شقوں جیسا کہ ملک بدری کے عمل کے دوران حقوقِ انسانی کے تحفظ کو یقینی بنائے جانے اور برطانیہ میں سفارتی عمارتوں کی قانونی حیثیت پر دلوائی ہے اور ہم اب بھی ایسا حل نکالنے کا عزم رکھتے ہیں جو فریقین کے لیے قابلِ قبول ہو‘۔

برطانیہ اس معاملے میں جس قانون کو استعمال کرنے کی دھمکی دے رہا ہے وہ سفارت اور قونصل خانوں کا ایکٹ 1987 ہے جس کے تحت برطانیہ کو اپنی سرزمین پر کسی سفارتخانے کا استثنیٰ ختم کرنے کا حق ہے۔

بی بی سی کے نائب مدیر برائے سیاسی امور جیمز لینڈیل کے مطابق برطانوی حکومت جولین اسانژ کے معاملے پر کافی عرصے سے ایکواڈور کی حکومت سے بات چیت کر رہی ہے اور اگرچہ اب اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے لیکن پھر بھی برطانوی پولیس کے ایکواڈور کے سفارتخانے میں داخل ہونے کا امکان نہیں۔

جیمز لینڈیل کا کہنا ہے کہ اگر جولین اسانژ کو ایکواڈور سیاسی پناہ دے بھی دیتا ہے تب بھی انہیں باہر جانے کے لیے برطانوی سرزمین سے گزرنا ہوگا جہاں انہیں حراست میں لیا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ سنہ دو دس میں خفیہ سرکاری دستاویزات افشاء کرنے کے لیے مشہور ویب سائٹ وکی لیکس کی دو سابقہ رضاکاروں نے جولین اسانژ پر سٹاک ہوم میں مجرمانہ جنسی حملہ کرنے کا الزام لگایا تھا۔

جولین اسانژ کا کہنا ہے کہ اس موقع پر ہونے والا جنسی عمل فریقین کی مرضی سے ہوا اور یہ الزامات سیاسی دباؤ کے تحت لگائے گئے ہیں۔

اکتالیس سالہ اسانژ کو خدشہ ہے کہ اگر انہیں سویڈش حکام کے حوالے کیا گیا تو وہاں سے انہیں امریکہ بھیجا جا سکتا ہے جہاں ان پر جاسوسی کے الزامات لگ سکتے ہیں۔

رواں برس جون میں برطانوی جج نے ملک بدری کے خلاف ان کی آخری اپیل رد کر دی تھی جس کے بعد انہوں نے ایکواڈور کے سفارتخانے میں سیاسی پناہ طلب کی تھی۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔