رمشا کی درخواستِ ضمانت منظور

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 7 ستمبر 2012 ,‭ 07:46 GMT 12:46 PST

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے توہینِ مذہب کے الزام میں گرفتار عیسائی لڑکی رمشا کی درخواستِ ضمانت منظور کر لی ہے۔

جمعے کو ہونے والے سماعت میں رمشا کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کے لیے انصاف کے نظام کے تحت رمشا کی عمر کم ہے اس لیے اس ضمانت پر رہا کیا جائے۔

عدالت نے ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے پانچ پانچ لاکھ روپے کے مچلکے جمع کروانے کے بعد رمشا کو رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

سماعت کے دوران ڈسٹرک اٹارنی محفوظ حفیظ پراچہ نے اس مقدمے کی تفتیش کرنے والے پولیس افسر پر جانب داری کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے کی تفتیش شفاف طریقے سے نہیں ہو رہی۔

انہوں نے کہا کہ ’ابتدائی تفتیش میں کہا گیا کہ رمشا کے نماز کا قاعدہ جلایا تاہم بعد میں اس میں قرآنی پارے کے صفحات بھی شامل کر لیے گئے جس کی ایف آئی آر الگ سے درج ہونی چاہیئے تھی۔‘

محفوظ حفیظ پراچہ نے مزید کہا کہ حافظ زبیر کو ڈرا دھمکا کر پیش امام خالد جدون کے خلاف بیان دلوایا گیا ہے۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔