مونگے کی چٹانوں میں تیزی سے کمی

آخری وقت اشاعت:  منگل 2 اکتوبر 2012 ,‭ 01:17 GMT 06:17 PST

آسٹریلیا میں محققین کا کہنا ہے کہ ملک کی مشہورِ زمانہ گریٹ بیریئر ریف میں مونگے کی چٹانیں انیس سو پچاسی کے مقابلے میں آدھی رہ گئی ہیں اور آنے والے دس برس میں اس میں مزید ایک چوتھائی کمی واقع ہوگی۔

میرین سائنس کے آسٹریلوی ادارے کی جانب سے کی جانے والی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اس کھاڑی کو پہنچنے والے نقصان میں دو ہزار چھ کے بعد تیزی آئی ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زیادہ تر نقصان طاقتور سمندری طوفانوں اور سٹار فش کے حملوں کی وجہ سے ہوا ہے جبکہ سمندری پانی کے بڑھتے درجۂ حرارت نے مونگے کا رنگ کاٹنے کا عمل تیز کردیا ہے۔

محققین کے مطابق مونگے کی چٹانوں میں بہتری کے امکانات کو سمندری پانی میں آلودگی کی وجہ سے نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔