’آئی ایس آئی، سربراہان کو استثنیٰ حاصل ہے‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 20 دسمبر 2012 ,‭ 23:06 GMT 04:06 PST

امریکی ریاست نیو یارک کی عدالت میں سنہ دو ہزار آٹھ کے ممبئی حملوں کے معاملے میں امریکی وزارت خارجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور اس کے سابق سربراہان کو اس مقدمے میں استثنیٰ حاصل ہے۔

یاد رہے کہ سنہ دو ہزار آٹھ کے ممبئی حملوں کے معاملے میں بائیس دسمبر 2010 میں نیویارک میں بروکلین کی عدالت میں جاری ایک مقدمے کے سلسلے میں، پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ اور کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ کے کئی عہدیداروں کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے سمن جاری کیے گئے تھے۔

دوسری جانب بھارت کے دفترِ خارجہ کی جانب سے ایک بیان میں امریکی وزارت خارجہ کے اس موقف کو ایک ’بڑی مایوسی‘ قرار دیا ہے۔

بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق امریکی وزارت خارجہ نے عدالت میں حلفیہ بیان داخل کرایا ہے جس میں کہا ہے کہ پاکستان کو لشکرِ طیبہ کو ختم کرنا چاہیے اور شدت پسندوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے بھارت کی مدد کرنی چاہیے۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔