’بیٹی کا نام ظاہر کرنے کی اجازت نہیں دی تھی‘

آخری وقت اشاعت:  پير 7 جنوری 2013 ,‭ 01:12 GMT 06:12 PST

بھارت سے ملنے والی خبروں کے مطابق گزشتہ ہفتے بھارت کے دارالحکومت نئی دلی کی ایک بس میں جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی لڑکی کے والد نے اس بات کی تردید کی ہے کہ انہوں نے برطانوی اخبار کو اپنی بیٹی کا نام ظاہر کرنے کی اجازت دی تھی۔

لڑکی کے والد نے روزنامہ ہندوستان ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی بیٹی کی شناخت صرف اس کے نام پر قانون بنائے جانے کی صورت میں ظاہر کرنا چاہتے تھے۔

برطانوی اخبار ’سنڈے پیپر‘ نے لڑکی کے والد سے انٹرویو کے بعد ان کے حوالے سے یہ کہہ کر لڑکی کا نام ظاہر کر دیا کہ وہ چاہتے ہیں کہ دنیا ان کی بیٹی کا اصلی نام جان لے۔

اس کے بعد سوشل میڈیا پر لڑکی کی شناخت کی بات پھیل گئی۔

بھارت میں جنسی زیادتی کے شکار لوگوں کا نام ظاہر کرنا قانونی جرم ہے۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔