موسم بہار میں امریکی فوج کا جنگی مشن ’ختم‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 12 جنوری 2013 ,‭ 20:19 GMT 01:19 PST

امریکہ کے صدر براک اوباما اور ان ہم افغان ہم منصب صدر حامد کرزئی اس بات پر رضامند ہو گئے ہیں کہ افغاننستان میں اس موسم بہار میں امریکی افواج کے’ زیادہ تر‘ جنگی آپریشنز ختم کر دیے جائیں گے۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی اور صدر براک اوباما کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے بعد جنگی مشن کے خاتمے کے بارے میں اعلان کیا گیا۔

توقع ہے کہ افغانستان میں امریکی افواج کا کردار مددگار کے طور پر تبدیل ہو جائے گا اور یہ پہلے کے اعلان کردہ منصوبے سے قدرے جلدی ہو گا جس میں افغان سکیورٹی فورس نے سکیورٹی کی ذمہ داریوں میں مرکزی کردار ادا کرنا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ میڈیا سے بات کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا کہ’ موسم بہار کے شروع سے ہمارے فوجیوں کا ایک مختلف مشن ہو گا، وہ تربیت، مشورہ اور افغان سکیورٹی فورسز کی مدد کریں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ’ یہ ایک تاریخی لمحہ ہو گا اور مکمل طور پر ایک خودمختار افغانستان کی جانب ایک اور قدم ہو گا‘۔

خیال رہے کہ منصوبے کے مطابق سال دو ہزار چودہ تک افغانستان سے ساٹھ ہزار امریکی فوجیوں نے نکلنا ہے۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔