’ڈی چوک میں بیٹھیں مگر ریڈ زون میں نہ آئیں‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 15 جنوری 2013 ,‭ 01:17 GMT 06:17 PST

پاکستان کے وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ حکومت تصادم اور تشدد نہیں چاہتی اس لیے طاہر القادری اور ان کے حامیوں کو ڈی چوک کے نام سے مشہور چوک میں جلسے کے لیے جگہ دے دی گئی ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ انہیں ڈی چوک میں جلسہ کرنے کی تو اجازت دی گئی ہے لیکن کسی کو ریڈ زون میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا۔ ’وہ دو دن بیٹھیں یا دس دن ہمیں اس سے مسئلہ نہیں لیکن انہیں ریڈ لائن عبور نہیں کرنے دی جائے گی۔‘

تحریکِ منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی جانب سے پارلیمنٹ کے سامنے عوام کی عدالت لگانے کے اعلان کے بعد لانگ مارچ میں شامل افراد سکیورٹی حصار توڑنے کے بعد پیر کی شب اسلام آباد میں پارلیمان کے سامنے واقع ڈی چوک میں پہنچ گئے ہیں۔

طاہر القادری نے پیر کو رات گئے اسلام آباد کے جناح ایونیو پر جمع ہزاروں افراد سے مختصر خطاب میں وزیرِ داخلہ پر وعدہ خلافی کا الزام عائد کرتے ہوئے صرف ڈی چوک میں ہی جلسہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے انتظامیہ کو اس اعلان کے بعد جلسہ گاہ پارلیمان کے سامنے ڈی چوک میں منتقل کرنے کے لیے پانچ منٹ کی مہلت دی تھی۔

دی گئی مہلت ختم ہونے کے کچھ دیر بعد مارچ کے شرکاء نے سعودی پاک ٹاور کے سامنے لگائے گئے کنٹینر زبردستی ہٹا دیے اور ڈی چوک پر پہنچ گئے۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔