بنگلہ دیش: خالدہ ضیاء پر فرد جرم عائد

آخری وقت اشاعت:  بدھ 16 جنوری 2013 ,‭ 09:04 GMT 14:04 PST

خالدہ ضیاء پر دو ہزار ایک سے دو ہزار چھ تک، وزارتِ عظمیٰ کے دوران اختیارات کے ناجائز استعمال جیسے الزامات ہیں۔

بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے سابق وزیرِ اعظم خالدہ ضیاء کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کے مقدمے میں فردِ جرم عائد کر دی ہے۔

اُن پر دو ہزار ایک سے دو ہزار چھ تک، وزارتِ عظمیٰ کے دوران اختیارات کے ناجائز استعمال جیسے الزامات ہیں۔

اگر خالدہ ضیاء کو مجرم قرار دے دیا گیا تو بنگلہ دیشی قوانین کے تحت، وہ آئندہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گی۔

اُن کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی، حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت ہے۔

اُن کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان پر لگائے گئے تمام الزامات غلط اور اور سیاسی محرکات کی بنیاد پر لگائے گئے ہیں۔

خبر رساں اداروں کے مطابق ان الزامات کا تعلق خالدہ ضیاء کے خیراتی ادارے ضیاء فاؤنڈیشن کے بارے میں ہیں جس کے سلسلے میں ایک مقدمہ تیج گاؤں کے تھانے میں آٹھ اگست دو ہزار گیارہ کو درج کروایا گیا تھا۔

کیس سننے والے جج نے خالدہ ضیاء کے پولیٹیکل سیکریٹری حارث چوہدری کی گرفتاری کے احکامات بھی جاری کیے جن پر اس مقدمے کے سلسلے میں الزامات ہیں۔

عدالت نے اکتیس جنوری تک احکامات پر عملدرآمد کے بارے میں رپوٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

خالدہ ضیاء خود منگل کو عدالت میں پیش ہوئیں اور پینتالیس منٹ تک عدالت میں رہیں جس کے بعد وہ جج کی اجازت سے رخصت ہوئیں۔

اسی طرح بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس اور مرچ سپرے کا استعمال کیا۔

یہ مظاہرین ملک میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف مظاہرے کر رہے تھے جس کی کال مختلف سیاسی جماعتوں نے دی تھی۔

سال کے آغاز پر ہی حکومت نے ایندھن کی قیمتوں نے نو فیصد اضافہ کیا جو کہ دو ہزار نو کے بعد پانچویں بار کیا گیا ہے۔

یہ اضافہ حکومت کی جانب سے تین سو ملین کی سبسڈی کے خاتمے کی وجہ سے کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔