سعودی بلاگر پر مقدمہ نہیں چل سکتا: عدالت

آخری وقت اشاعت:  منگل 22 جنوری 2013 ,‭ 13:38 GMT 18:38 PST

سعودی عرب کی ایک عدالت نے کہا ہے کہ انٹرنیٹ بلاگر رؤف بداوی پر ترک عقیدے کا مقدمہ نہیں چلا جایاسکتا ہے۔

عدالت نے یہ معاملہ ذیلی عدالت میں منتقل کردیا ہے۔

عدالت کو یہ حق حاصل تھا کہ اگر بداوی پر الزام صحیح ثابت ہوجاتا تو وہ انہیں اس معاملے میں موت کی سزا سنا سکتی تھی۔ تاہم ایسے کرنے کے برعکس عدالت نے یہ معاملہ ایک ذیلی عدالت میں منتقل کردیا ہے جو یا تو بداوی کو اس معاملے میں بری کرسکتی ہے یا پھر معاملے کی سنوائی کی ذمہ داری کسی تیسری عدالت کو دے سکتی ہے۔

بداوی سعودی عرب میں ایک انٹرنیٹ فورم چلاتے ہیں اور انہیں گزشتہ برس توہن رسالت کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ایک سرکردہ ادیب ترکی الحمد کو اسلام کی تنقید کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ مبصر ہمزہ کشگری پیغمر اسلام کے بارے میں بعض مبینہ متنازعہ بیان دینے کے الزام میں جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔