صوابی میں پولیو ٹیم پر حملہ، پولیس اہلکار ہلاک

آخری وقت اشاعت:  منگل 29 جنوری 2013 ,‭ 11:50 GMT 16:50 PST

صوابی ہی میں ایک غیر سرکاری تنظیم کے اہلکاروں پر دو جنوری دو ہزار تیرہ کو حملہ کیا گیا جس میں چھ خواتین سمیت سات افراد ہلاک ہو گئے تھے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر صوابی میں ایک پولیو ٹیم پر حملے کے نتیجے میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا۔

گزشتہ سال کے اواخر میں پولیو کی ٹیموں پر حملوں کے بعد حکام نے فیصلہ کیا تھا کہ ہر پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیم کے ساتھ ایک پولیس اہلکار حفاظت کے لیے مامور کیا جائے گا۔

صوابی کے ڈی سی او سید محمد شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ایک پولیو ٹیم جو پیدل گلو ڈیری کے علاقے میں پولیو کے قطرے پلا رہی تھی کہ دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے حملہ کر کے ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار کو ہلاک کر دیا۔

ہلاک ہونے والے پولیس اہلکار کا نام منصف علی بتایا گیا ہے۔

صوابی ہی میں ایک غیر سرکاری تنظیم کے اہلکاروں پر دو جنوری دو ہزار تیرہ کو حملہ کیا گیا جس میں چھ خواتین سمیت سات افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

غیر سرکاری تنظیم کے اہکاروں پر فائرنگ کا یہ واقعہ موٹر وے کے قریب انبار کے علاقے میں سروس روڈ پر پیش آیا۔

اس غیر سرکاری تنظیم کا نام سپورٹ ود ورکنگ سولوشن تھا جو اس علاقے میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں کام کررہی ہے۔

یہ پہلا موقع تھا جب صوابی میں غیر سرکاری تنظیم پر حملہ کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ صوابی میں سکولوں پر تو حملے تو ہوتے رہے ہیں اور ان کو تباہ کیا گیا ہے۔ تاہم اس سے پہلے غیر سرکاری تنظیموں کے اہلکاروں پر حملے نہیں ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔