راجہ پرویز اشرف کو توہینِ عدالت کا نوٹس

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کرائے کے بجلی گھروں کے معاملات کی تحقیق کے لیے کمیشن کی تعیناتی کےحوالے سے اس وقت کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے خط کو بادی النظر میں عدالتی امور میں مداخلت کی کوشش قرار دیتے ہوئے توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔

عدالت نے انہیں مقدمے کی آئندہ سماعت پر عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔

جمعرات کو اسلام آباد میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس معاملے کی سماعت کی۔

راجہ پرویز اشرف کے وکیل وسیم سجاد نے عدالت سے کہا کہ چیف جسٹس کو پاکستانی شہری ایسے خط تحریر کرتے رہتے ہیں جس پر عدالت نے کہا کہ راجہ پرویز اشرف نے بطور وزیراعظم یہ خط لکھا اور وہ خود اس مقدمے میں نامزد ملزم بھی ہیں۔

اس پر وسیم سجاد نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ چاہے تو اس خط کو مسترد کر دے تاہم عدالت نے کہا کہ یہ ججوں پر براہِ راست اثرانداز ہونے کی کوشش ہے اور کیوں نہ ان کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے۔