سابق فوجی صدر پرویز مشرف نےگرفتار

پاکستان میں اسلام اباد کی ایک عدالت نے ملک کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو دو دن کے لیے ٹرانزٹ ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں دو روز کے اندر راوالپنڈی میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جائے۔

سب ڈیویژنل پولیس افسر ادریس راٹھور نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم پرویز مشرف کو چک شہزاد میں واقع ان کے فارم ہاؤس پر ہی نظر بند کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کی نظربندی کے احکامات رات گئے جاری کیے گئے تھے جبکہ چیف کمشنر اسلام اباد طارق پیرزادہ نے بتایا کہ جب تک ملزم شامل تفتیش نہ ہو اور متعلقہ عدالت میں ان کے کیس کی سماعت شروع نہ ہو اس وقت تک ملزم کے گھر کو سب جیل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ہمارے نمائندے شہزاد ملک کے مطابق اس سے پہلے سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے آج خود کو پولیس کے حوالے کیا اور پولیس انہیں لینے کے لیے ان کے فارم ہاؤس پر گئی جہاں سے وہ رینجرز کی سکیورٹی میں اپنی بلٹ پروف گاڑی میں عدالت ائے۔

انہیں اسلام آباد میں جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ کی عدالت میں پیش کیاگیا۔

ادھراسلام اباد پولیس نے چیف کمیشنر اسلام اباد کو خط لکھا ہے کہ پرویز مشرف کو سکیورٹی خدشات ہیں اس لیے ان کے گھر کو ہی سب جیل قرار دیا جائے۔