عراق: بیس سنی مظاہرین ہلاک

عراق میں سنی مظاہرین کے خلاف سکیورٹی اداروں کی کارروائی میں کم از کم بیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

شمالی عراق کے علاقے ہویجا میں سنی آبادی سے تعلق رکھنے والے افراد نورالمالکی کی شیعہ حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

عراق کے سنی وزیر تعلیم محمد تمیم نے احتجاجی مظاہرین کے خلاف فوج کی کارروائی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔

کرتے اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔

یہ پہلی بار ہے کہ عراقی فوج نے احتجاجی مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا ہے۔

سنی آبادی سے تعلق رکھنے والے عراقی باشندوں کی ایک بڑی تعداد ہر ہفتے شیعہ حکومت کے خلاف مظاہرے کر رہی ہے۔

سنی مظاہرین کا الزام ہے کہ شیعہ حکومت سنی آبادی کے خلاف تفریق کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔ حکومت کا موقف کہ سنی مزاحمت کار مظاہرین کی صفوں میں گھس گئے ہیں۔