نوشہرہ:علی حیدر گیلانی کی بازیابی کے لیے آپریشن

Image caption علی حیدر گیلانی کو عام انتخابات سے دو دن پہلے ملتان سے اغوا کیا گیا تھا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں سابق وزیرِاعظم پاکستان کے بیٹے علی حیدر گیلانی کے بازیابی کے لیے جاری آپریشن میں تاحال کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

یہ آپریشن نوشہرہ میں اکوڑہ خٹک کے علاقے مصری بانڈہ میں اہم مغوی کی موجودگی کی اطلاعات پر جمعرات کی صبح شروع ہوا تھا۔

صوبے کی پولیس اور ایف سی کے اہلکار مصری بانڈہ، میر ہٹی اور میر اکوڑہ خٹک میں کارروائی میں مصروف ہیں اور اب تک متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

مقامی پولیس کے اہلکار ارشاد خان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ کارروائی کے دوران پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک مغوی عبدالوہاب کو بازیاب کرایا گیا جس نے پولیس کو بتایا کہ علی حیدر گیلانی بھی اسی علاقے میں اغواکاروں کے قبضے میں موجود ہیں۔

نامہ نگار دلاور خان وزیر کے مطابق اس انکشاف پر پولیس کی مزید نفری بھی منگوا لی گئی ہے اور علاقے میں کارروائی تیز کر دی گئی ہے تاہم تاحال علی حیدر گیلانی کا سراغ نہیں مل سکا ہے۔

واضح رہے کہ علی حیدر گیلانی کو ملک میں گیارہ مئی کو ہونے والے عام انتخابات سے دو دن پہلے ملتان سے اغوا کیا گیا تھا۔

علی حیدر گیلانی پاکستان کے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے چھوٹے بیٹے ہیں اور انتخابات میں پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 200 سے پیپلز پارٹی کے امیدوار تھے۔

یوسف رضا گیلانی نے نو مئی کو بی بی سی کو بتایا تھا کہ علی گیلانی فرخ ٹاؤن میں ایک انتخابی جلسے میں شریک تھے کہ ان پر فائرنگ کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ فائرنگ سے علی حیدر کے سیکرٹری محی الدین اور ان کا ایک محافظ ہلاک ہوگئے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ اس حملے میں پانچ افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

ملتان پولیس نے میڈیا کو بتایا تھا کہ موٹرسائیکل پر سوار دو نامعلوم افراد آئے جنہوں نے پہلے اندھادھند فائرنگ کی جس کے بعد علی حیدرگیلانی کو کالے رنگ کی ہنڈا گاڑی میں بٹھا کر لے گئے۔

اس واقعے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی نے کہا تھا ’علی حیدر گیلانی کو سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی اور ہمارے اپنے محافظ اس حملے میں مارے گئے ہیں۔‘

اسی بارے میں