’پاک افغان سرحد پر تعاون کے اقدامات‘

پاکستان، افغانستان اور امریکی فوجی کمانڈروں کے سہ فریقی اجلاس میں پاک افغان سرحد پر تعاون کے اقدامات پر تبادلہ خیال ہوا۔

راولپنڈی میں منعقدہ اس اجلاس میں ایساف کے کمانڈر جنرل جوزف ڈنفورڈ ، افغان نیشنل آرمی کے چیف آف جنرل سٹاف شیرمحمد کریمی اور بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویزکیانی نے شرکت کی ۔

پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق اجلاس میں پاک افغان سرحد پرتعاون کے اقدامات اور کنٹرول بہتر بنانے کے لیے سٹینڈنگ آپریٹنگ پروسیجر پر عملدرآمد کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔

پاکستان اور افغانستان کے مابین ڈیورنڈ لائن پر گزشتہ کچھ عرصے میں سرحد پر سکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں۔

گزشتہ ماہ دونوں ملکوں کی سرحد پر ہونے والی ایک جھڑپ میں افغانستان کی بارڈر سکیورٹی فورسز کا ایک اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے جبکہ پاکستان نے کہا تھا کہ اس کی سکیورٹی چیک پوسٹ پر بلا اشتعال فائرنگ سے تین فوجی زخمی ہوگئے ہیں۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر اس واقع پر احتجاج کیا تھا۔

اس سے ایک ماہ پہلے اپریل میں پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ کابل کی جانب سے پاک افغان سرحد پر چیک پوسٹ پر تنقید کا مسئلہ افغان فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے ساتھ خوش اسلوبی سے حل ہو گیا ہے۔

اس وقت افغانستان کی وزارت دفاع کے ترجمان اور افغان نیشنل آرمی کے اعلیٰ افسر جنرل ظاہر اعظمی نے کہا تھا کہ پاکستان کو سرحد پر گیٹ اور چیک پوسٹیں بنانے سے روکنے کے لیے کابل کے پاس مختلف آپشنز موجود ہیں۔