ایف آر پشاور:شدت پسندوں کے خلاف کارروائی

پاکستان کے نیم خودمختار قبائلی علاقے ایف آر پشاور میں اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز نے دو دن پہلے چھ ایف سی اہلکاروں کی ہلاکت کے واقعہ کے بعد شدت پسندوں تنظیموں کے خلاف کاروائیوں کا آغاز کیا ہے۔

دریں اثناء پشاور کے مضافاتی علاقوں میں عسکریت پسندوں اور پولیس کے مابین جھڑپوں میں اہم شدت پسند کمانڈر کے بھائی اور پولیس اہلکار سمیت تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فرنٹیر کانسٹیبلری کے اہلکاروں نے جمعرات کی صبح پشاور سے متصل نیم قبائلی علاقے ایف آر پشاور کے مقامات پر شدت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جناکور اور شمشتو کے علاقوں میں سکیورٹی اہلکار مشتبہ ٹھکانوں اور مکانات کی تلاشی لے رہے ہیں۔

ان کے مطابق جمعرات کی صبح سے علاقے میں موبائل ٹیلی فون سروس معطل کر دیا گیا اور لوگ گھروں کے اندر محصور ہیں۔

ادھر ایف سی ذرائع نے فرنٹیر ریجن کے علاقوں جناکور اور شمشتو میں محدود پیمانے پر آپریشن کی تصدیق کر دی ہے تاہم مزید تفصیلات بتانے سے انکار کیا۔