کشمیر: ہلاکتوں کے خلاف ہڑتال، کرفیو نافذ

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے ہندو اکثریتی جنوبی خطے جموں میں جمعرات کو بھارت کی سرحدی فوج کی فائرنگ سے کم از کم چار افراد کی ہلاکت کے خلاف جمعہ کو وادی میں ہڑتال کی جا رہی ہے جبکہ حکومت نے اس موقع پر مظاہروں کو ناکام بنانے کے لیے پوری وادی میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

ہلاکتوں کا واقعہ جموں کے رام بن ضلع میں گول علاقہ کے قریب پیش آیا تھا اور اس کے بعد جموں کے ساتھ ساتھ پوری وادی کشمیر میں کشیدگی پھیل گئی تھی۔

اس واقعہ میں کُل پینتالیس افراد زخمی ہوئے تھے جن میں کچھ کی حالات تشویشناک ہے۔

جمعہ کو کرفیو کی وجہ سے جموں اور سرینگر کے درمیان واحد شاہراہ پر آمدورفت میں خلل پڑا ہے۔ تمام کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں اور کشمیر یونیورسٹی نے امتحانات کو ملتوی کردیا ہے۔ کشمیر میں کئی ہفتوں سے جاری ہندو عقیدت مندوں کی امرناتھ گھپا کی یاترا بھی متاثر ہوگئی ہے۔