دمدار ستارے 67 پی کی جانب بھیجے جانے والے خلائی سیارے روزیٹا کا مشن ختم

67P تصویر کے کاپی رائٹ ESA/ROSETTA/NAVCAM
Image caption 67 پی اور روزیٹا سورج سے 400 ملین کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر موجود تھے

دس برس قبل خلا ميں بھيجا جانے والے روزيٹا نامي سيٹيلائٹ کے دمدار ستارے سے ٹکرا کر تباہ ہونے کے ساتھ ہي اِس کا تاريخي مشن آج ختم ہوگیا ہے۔

اِس سيٹيلائٹ کو دمدار ستارے 67 پی کے مطالعے کے ليے بھيجا گيا تھا اور يہ دو برس سے يہ کام کر رہا تھا۔ یورپين سپيس ايجنسي کا کہنا تھا کہ روزيٹا سورج سے اتني دور ہوتا جا رہا تھا کہ اپني بيٹرياں خود سے ري چارج کرنے کے قابل نہيں رہتا۔

’روزیٹا دمدار ستارے سے ٹکرا کر تباہ ہو گا‘

یورپی خلائی ایجنسی کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس مصنوعی سیارے کی کارآمد زندگی ختم ہو رہی تھی اور وہ اس کی تباہی سے قبل کچھ آخری اعدادوشمار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

روزیٹا نامی خلائی جہاز جو گذشتہ دو برس سے اس دمدار ستارے پر نظر رکھے ہوئے تھا، اب اسی چار کلومیٹر چوڑی برف اور گرد کی دیوار سے ٹکرائے گا۔

خیال یہی تھا کہ روزیٹا 67 پی سے اپنے تصادم کو برداشت نہیں کر سکے گا اور تباہ ہو جائے گا۔

تاہم اگر اس کے کچھ حصے کام بھی کرتے رہے تب بھی اس میں موجود سافٹ ویئر تصادم پر ہر چیز کو بند کر دے گا۔

جرمنی میں واقع کمانڈ سینٹر میں موجود کنٹرولرز نے روزیٹا کو جمعرات کی شب اپنا راستہ تبدیل کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد وہ اب دمدار ستارے کی براہِ راست راہ میں آ گیا ہے۔

دمدار ستارے اور روزیٹا کے درمیان فاصلہ اب کم ہوتا جا رہا ہے اور وہ جمعے کو گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق دن 11 بج کر 18 منٹ پر 67 پی سے ٹکرا جائے گا۔

روزیٹا اگست 2014 میں دس سال کے سفر کے بعد اس ستارے تک پہنچا تھا اور یہ انسانی تاریخ میں پہلا موقع تھا جب کوئی خلائی جہاز کسی دمدار ستارے کی سطح کے قریب پہنچا تھا۔

25 ماہ جاری رہنے والی تحقیق کے دوران اس سیارے کی ایک لاکھ سے زیادہ تصاویر کھینچیں اور اعدادوشمار حاصل کیے۔

ان معلومات کی مدد سے دمدار ستاروں کی ساخت، کیمیا اور رویوں کے بارے میں ایسی معلومات ملیں جو پہلے کبھی سامنے نہیں آئی تھیں۔

روزیٹا نے نومبر 2014 میں دمدار ستارے پر 'فیلے' نامی ایک روبوٹک گاڑی بھی اتاری اور یہ بھی خلائی تاریخ میں ایسا پہلا واقعہ تھا۔

روزیٹا کے فلائیٹ ڈائریکٹر آندریا اکومازو کا کہنا ہے کہ'ہم اس مشن کے آخری مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں لیکن روزیٹا سے حاصل کردہ ڈیٹا آنے والی کئی دہائیوں تک کام آتا رہے گا۔'

ای ایس اے کے سینیئر سائنس ایڈوائزر مارک میکاگریئن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم دنیا کو ایک دمدار ستارے کے مرکز میں ایک سنسنی خیز سفر پر لے گئے اور ہم نے دیکھا کہ دنیا نے روزیٹا اور فیلے کے اس کارنامے کو دل میں بسا لیا۔

67 پی اعدادوشمار کی روشنی میں

  • دمدار ستارے کے گرد چکر مکمل کرنے میں 12 گھنٹے کا وقت لگتا ہے۔
  • دمدار ستارے کے سب سے بڑا حصہ یا اس کا جسم 4 × 3 × 2 کلومیٹر کا ہے۔
  • دمدار ستارے کے سب سے چھوٹا حصہ یا اس کا سر 2 × 2 × 2.5 کلومیٹر کا ہے۔
  • کششِ ثقل کے پیمانوں کے تحت اس ستارے کا وزن دس ارب ٹن ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں