’اگر آئی فون خریدا تو نوکری ختم‘

آئی فون تصویر کے کاپی رائٹ JOHANNES EISELE

ذرا تصور کریں کہ آپ کا باس آپ سے کہے: ’اگر آپ نے آئی فون خریدا تو تمھیں نوکری سے نکال باہر کر دیا جائے گا۔‘

یہ بات ہضم کرنا تھوڑا مشکل لگتا ہے کہ لیکن چین میں بعض کمپنی مالکان اپنے ملازمین کو آئی فون سیون خریدنے کے پاداش میں کچھ ایسی ہی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

اس طرح کے بیشتر کیسوں میں اس کی بڑی وجہ جذبۂ حب الوطنی ہے۔

چین کے صوبہ ہینان میں نان یونگ کانگ میڈیسن کمپنی نے اپنے ملازمین کو نوٹس جاری کیا کہ وہ آئی فون سیون یا سیون پلس نہ خریدیں۔ 'اگر آپ یہ ضابطہ توڑیں گے تو پھر اپنا استعفیٰ تیار رکھیں۔'

85 برس قبل اسی دن جاپانی فوج نے مشرقی چین پر حملہ کیا تھا۔ کمپنی کے نوٹس میں مزید لکھا تھا: '18 ستمبر ایک تاریخی دن ہے۔ اس دن ہونے والی قومی ذلت مت بھولو اور غیرملکی مصنوعات خریدنے سے باز آ جاؤ۔'

چین میں سوشل میڈیا پر اس نوٹس کو بڑے پیمانے پر شیئر کیا گیا ہے، اور اس کا ہیش ٹیگ ویبو پر ٹرینڈ کر رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Weibo
Image caption بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اس قسم کے نوٹس ملازموں کے حقوق کی خلاف ورزی ہیں

بعض صارفین نے لکھا ہے کہ آئی فون کا بائیکاٹ الٹا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے کیوں کہ ایپل کی بیشتر مصنوعات چینی کمپنی فاکس کام تیار کرتی ہے۔

ایک صارف نے کہا: 'اس سے فاکس کام کمپنی بیٹھ سکتی ہے جس سے ہزاروں لوگ بےروزگار ہو جائیں گے۔'

ایک اور صارف نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ کمپنی ملازموں کے حقوق پامال نہیں کر رہی؟ 'آپ حب الوطنی کے نام پر ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟'

تاہم بعض لوگوں نے اس کی حمایت بھی کی ہے۔ مثلاً ایک صارف چنگ ٹونگ چاہتے ہیں کہ یہ حکمتِ عملی پورے ملک پر نافذ کر دی جائے۔ 'اگر ہم ہر سرکاری ملازم سے ایسا ہی مطالبہ کریں کہ اگر وہ چینی موبائل نہ خریدیں تو انھیں نوکری سے برخاست کر دیا جائے گا تو مقامی موبائلوں کی فروخت میں تیزی سے اضافہ ہو گا۔'

نان یونگ کانگ میڈیسن کی مثال پر دوسری کمپنیوں نے بھی عمل کیا ہے۔ ہینان صوبے کی ایک کمپنی نے کہا کہ اگر اس کے ملازمین کے پاس آئی فون سیون نظر آیا تو اسے نوکری سے نکال دیا جائے گا۔

اس کمپنی کے چیئرمین کو خدشہ ہے کہ آئی فون خریدنے سے ان کے ملازمین میں خواہ مخواہ مہنگی چیزیں خریدنے کا بھوت سوار ہو جائے گا۔

اسی ماہ چونگ چنگ کے ایک ہسپتال نے اپنے عملے کو خبردار کیا کہ وہ ایپل کی مصنوعات سے پرہیز برتیں جس کا مقصد انھیں فضول خرچی سے بچانا ہے۔ کمپنی نے دھمکی دی ہے کہ اگر اس کی ہدایت پر عمل نہ کیا گیا تو ملازموں کی سالانہ رپورٹ خراب کر دی جائے گی۔

ہسپتال کے مینیجر نے بی بی سی ٹرینڈنگ کو بتایا کہ اس نوٹس کی وجہ یہ ہے کہ عملے کے بعض ارکان ایسی مصنوعات خرید رہے ہیں جن کی قیمت ان کی تنخواہ سے تین گنا زیادہ ہے۔

'بعض لوگ اپنے رشتے داروں اور دوستوں سے قرض لے کر فون خریدتے ہیں، کچھ اپنے اعضا تک فروخت کر دیتے ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ میرا عملہ ایسی حرکتیں کرے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption بعض دکانوں نے بھی آئی فون فروخت کرنا بند کر دیے ہیں

جنوبی بحیرۂ چین پر چین کے دعوے کے خلاف بین الاقوامی ٹربیونل کے فیصلے کے بعد امریکی صدر اوباما نے چین پر زور دیا تھا کہ وہ اس فیصلے کا احترام کرے۔

بعض چینی قوم پرستوں کو یہ بات پسند نہیں آئی جس کا غصہ انھوں نے آئی فون پر نکالا۔ ویبو پر بعض لوگوں کو اپنے آئی فون توڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ بعض دکانوں نے بھی آئی فون فروخت کرنا بند کر دیے ہیں۔

تاہم ایپل چین کے ساتھ تعلقات میں فروغ لانے کے لیے پرعزم ہے اور اسی ہفتے اس نے بیجنگ میں ساڑھے چار کروڑ ڈالر مالیت کا مرکز کھولنے کا اعلان کیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں